مرکزکی ای۔ کامرس پلیٹ فارمز کو ہدایت

’ہیلتھ ڈرنکس‘ کے زمرے سے’ بورن ویٹا ‘کو ہٹا دیں

سرینگر// تجارت اور صنعت کی وزارت نے ای کامرس کمپنیوں کو ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے پورٹل اور پلیٹ فارم پر’ہیلتھ ڈرنکس‘ کے زمرے سے بورن ویٹا سمیت تمام مشروبات کو ہٹا دیں۔’ہیلتھ ڈرنک‘ کی تعریف ایف ایس ایس ایکٹ 2006 کے تحت کی گئی ہے۔وزارت کی جانب سے 10 اپریل کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بورن ویٹاکو ہیلتھ ڈرنکس میں شامل نہ کیا جائے اور اسکی تشہیر نہ کی جائے ۔یہ ایڈوائزری این سی پی سی آر کی انکوائری کے بعد ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ بورن ویٹا میں شوگر کی مقدار قابل قبول حد سے زیادہ ہے۔’’نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر)، ایک قانونی ادارہ ہے جو کمیشن آف پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (سی پی سی آر) ایکٹ 2005 کے سیکشن (3) کے تحت تشکیل دیا گیا تھا، جس نے سی آر پی سی ایکٹ 2005 کے سیکشن 14 کے تحت اپنی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسا کوئی ہیلتھ ڈرنک نہیں ہے۔قبل ازیں، این سی پی سی آر نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) سے ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو حفاظتی معیارات اور رہنما خطوط پر پورا اترنے میں ناکام رہیں اور پاور سپلیمنٹس کو ’ہیلتھ ڈرنکس‘ کے طور پر پیش کر رہی تھیں۔ریگولیٹری باڈی کے مطابق ملک کے فوڈ قوانین می ’ ہیلتھ ڈرنک‘کی تعریف نہیں کی گئی ہے اور اسی کے تحت کسی چیز کو پیش کرنا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس مہینے کے شروع میں، FSSAI نے ای کامرس پلیٹ فارمز کو بھی ہدایت کی کہ وہ ڈیری پر مبنی یا مالٹ پر مبنی مشروبات کو’صحت کے مشروبات‘کے طور پر لیبل نہ کریں۔پچھلے سال، بچوں کے حقوق کے اعلیٰ ادارے این سی پی سی آر نے مونڈیلیز انڈیا کی ملکیت والے برانڈ بورن ویٹا سے تمام ’’گمراہ کن‘‘ اشتہارات، پیکیجنگ اور لیبلز کو واپس لینے کو کہا جب ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ ہیلتھ ڈرنک میں شوگر کی مقدار زیادہ ہے۔