مردم شماری 2027 وِکست بھارت کی بنیاد رکھنے والا ’ قومی ڈیجیٹل تبدیلی مشن‘ ہے۔ اَتل ڈولو

مردم شماری 2027 وِکست بھارت کی بنیاد رکھنے والا ’ قومی ڈیجیٹل تبدیلی مشن‘ ہے۔ اَتل ڈولو

چیف سیکرٹری نے آرٹیفیشل اِنٹلی جنس پر مبنی مستقبل متحرک اوربروقت حکمرانی کے نظام پر زور دیا

جموں//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے اِس بات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک اہم ’ڈیٹا انفلیکشن پوائنٹ ‘ پر ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آنے والی مردم شماری 2027 محض اعداد و شمار کا عمل نہیں بلکہ ایک قومی ڈیجیٹل تبدیلی مشن ہے جو ’وِکست بھارت‘ اور شواہد پر مبنی پالیسی کی منصوبہ بندی کرے گا۔اُنہوں اِن باتوں کا اِظہار جموں کے ابھینو تھیٹر میں منعقدہ مردم شماری 2027 سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اِس سمٹ میںسینئر اِنتظامی اَفسران، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی تاکہ ہندوستان کی مردم شماری 2027 کے روڈ میپ، تیاریوں اور اہمیت پر غوروخوض اور تبادلہ خیال کیا جا سکے جو ملک کی پہلی مکمل ڈیجیٹل اور کاغذ کے بغیر مردم شماری کی مشق ہے۔اِس سمٹ میں چیف پرنسپل سینسَس آفیسر و ڈائریکٹر سینسَس آپریشنز جموں و کشمیر و لداخ امیت شرما،ریذیڈنٹ نمائندہ یو این ایف پی اے اِنڈیا ایندریا ایم ووجنار، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (اِنفارمیشن سیکورٹی) یو آئی ڈِی اے آئی پرفل کمار سگتیااور کو۔چیئر (پالیسی میکنگ)جی 20 روہت کمارجیسے خصوصی مہمانوں نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے مہمان خصوصی کے طور پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ٹیکنالوجی اور بروقت معلومات و تجربات سے چلنے والی حکمرانی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے 2011 کی دستی اور وقت طلب مردم شماری کے مقابلے میں اس بارموبائل پر مبنی اعداد و شمار، آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی کو اِستعمال کرتے ہوئے درستگی، شفافیت اور رفتار کو یقینی بنانے کے لئے ٹیکنالوجی اوّلین، شہریوں پر مبنی فریم ورک کی طرف تبدیلی کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے ٹیکنالوجی میں تیزی سے عالمی ترقی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کے دور میں اعداد و شمارکسی بھی ملک کی معیشت کا سب سے بڑا محرک ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کی وسیع آبادیاتی تنوع مغربی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ بھرپور ڈیٹا فراہم کرتی ہے جو آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی) نظاموں کی تربیت اور عالمی سطح پر ڈیٹا پر مبنی قوم بننے میں ملک کو برتری دیتی ہے۔
اَتل ڈولو نے اِس بات پر زور دیا کہ نیشنل ڈیٹا سیٹس کو جے اے ایم ٹرینیٹی (جن دھن، آدھار، موبائل) کے ساتھ مربوط کرنے سے حکومت کو مستفید کنندگان تک براہِ راست فائدہ پہنچانے میں مدد ملی ہے جس سے بدعنوانی اور لیکیجز میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پرانے یکساں مرکزی منصوبہ بندی کے بجائے یہ نیا ڈیٹا نظام دیہی و شہری سطح پر سائنسی منصوبہ بندی کو فروغ دے گا جس سے صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مقامی ضروریات کے مطابق ترقی ممکن ہوگی۔اُنہوں نے اِنتظامی کاموں پر زور دیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنروں اور ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ نچلی سطح پر بغیر کسی رُکاوٹ کے عمل کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے سینسَس افسران اور شمار کنندگان کی خاطر تربیت کی فوری تکمیل کے لئے واضح ہدایات جاری کیں، 17 ؍مئی سے شروع ہونے والی خود شماری کے عمل اور اس کے بعد یکم ؍جون 2026 ء سے شروع ہونے والے گھر گھر سروے کے لئے مکمل تیاری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار ریاستوں اور یوٹیز کے مالی حصے کے تعین اور آئندہ دہائی کی ترقیاتی منصوبہ بندی میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں۔اِس سے قبل چیف پرنسپل سینسس آفیسر امیت شرما نے اِستقبالیہ خطاب میں مردم شماری 2027 کے دو مراحل پر روشنی ڈالی۔مرحلہ اوّل میں مکانات کی فہرست سازی اور مکانات کی مردم شماری(ایچ ایل او) جس میں 17 ؍مئی سے 31 ؍مئی تک خود شماری اور یکم ؍جون سے 30 ؍جون 2026 ء تک گھر گھر سروے شامل ہے۔مرحلہ دوم میں آبادی کی مردم شماری (پی اِی)جو برفباری والے علاقوں میں ستمبر 2026 اور دیگر علاقوں میں فروری 2027 سے شروع ہوگی۔اُنہوںنے کہا کہ مردم شماری 2027 مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگی جس میں شمار کنندگان موبائل ایپ کے ذریعے براہ راست ڈیٹا جمع کریں گے جبکہ خود شماری کو ترجیح دی جائے گی۔ایک محفوظ ویب پورٹل جو 16 زبانوں میں دستیاب ہوگا۔ شہریوں کو اِجازت دے گا کہ وہ گھر گھر سروے شروع ہونے سے پہلے اپنی تفصیلات آن لائن جمع کریں۔ اِس کے علاوہ ایک نیا سینسَس مینجمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی ایم ایم ایس) فیلڈ آپریشنزحقیقی وقت میں نگرانی کی سہولیت فراہم کرے گا۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس عمل کی کامیاب تکمیل کے لئے تربیتی نظام پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے اور مختلف سطحوں پر شمار کنندگان اور سپروائزروں کے لئے اس وقت پورے خطے میں جامع تربیت جاری ہے۔
اِس موقعہ پر یو این ایف پی اے اِنڈیا کی ریذیڈنٹ نمائندہ آندریا ایم ووجنار نے کہا کہ دنیا بھر میں اسی نوعیت کی ڈیجیٹل مردم شماری اپنائی جا رہی ہے اور ہندوستان میں بھی یہ ایک جامع اور مؤثر عمل ثابت ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی طبقہ فلاحی سکیموں اور پالیسی سازی سے باہر نہ رہ جائے۔ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ( اِنفارمیشن سیکورٹی ) یو آئی ڈِی اے آئی پرفل کمار سگتیا نے مردم شماری 2027 کو آدھار اندراج کے بڑے عمل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں میں وسعت، پیچیدگی اور ٹیکنالوجی کا بھرپور اِستعمال مشترک ہے۔ اُنہوں نے ڈیٹا کی مؤثر پروسسنگ اور اس کی سیکورٹی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے ڈیٹا کی رازداری کو یقینی بنانے کے لئے مضبوط نظام موجود ہیں۔کو۔ چیئرمین (پالیسی میکنگ) جی 20 روہت کمار نے بھی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے مردم شماری کے عالمی اثرات اور پالیسی سازی میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ عمل ہندوستان کے اعداد و شمار حکمرانی نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔