حسن ساہوؔ
افسوس کے ساتھ ضبط تحریر میں لانا پڑرہا ہے کہ آئے دن مسلمان عالم مجموعی طور پر کسی نہ کسی روپ میں پریشانیوں اورمصائب سے دوچار ہیں۔ بدامنی، نفاق، رسہ کشی ،کدورت اورآپسی رنجش نے قریباً ہر مسلم ملک کو افراتفری اور بے راہ روی کا شکار بنالیا ہے۔ یہ زمانے کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ اب عرصہ سے ’’اتحاد بین المسلمین‘‘اسلام صفوں میںدور دور تک ناپید نظر آرہا ہے۔ جو لوگ اس اتحاد کو قائم کرنے کی خاطر عملی اقدام اُٹھانے کے خواہش مند تھے ۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مایوسی کے حصار میں مقید پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
در حقیقت فی زمانہ نفاق اور خانہ جنگی کی گرم بازاری دیکھنا مقصود ہو تو مسلمانان عالم پر نظر ڈالئیے۔ اندازہ ہوگا کہ کس طرح اسلام دشمنوں کے دائو پیچ میں آکر کئی مسلم ممالک اتحاد ویگانگت کی روا کو تار تار کرنے میں اپنی عافیت جاننے لگے ہیں۔ آیت اللہ خمینیؒ نے مسلمانوں کی یہ بدحالی دیکھ کر فرمایا تھا
’’مسلمان کے مسائل بہت سارے ہیں لیکن حقیقت میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل میری نظروں میں یہ ٹھہری کہ انہوں نے قرآن کریم کے ارشادات کو ایک طرف رکھ دیا ہے اور دوسروں کے جھنڈے تلے جمع ہونے میں ہی اپنی عافیت جان لی ہے۔‘‘
قرآن کریم فرماتا ہے کہ ’’تم سب اللہ کے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور فرقوں میں مت بٹ جائو‘‘ اگر مسلمانان عالم اس ایک آیت پر عمل کرتے تو اُن کی اجتماعی،سیاسی، اقتصادی غرض کہ تمام مشکلات بغیر کسی کے دامن کو تھامے حل ہوجائیں‘‘۔
برصغیر ہی کو لیجئے،پاکستان میں مسلمانوں کی غالب اکثریت ہے۔ کیا وہ اخوت واخلاص کی زندگی گزار رہے ہیں؟جی نہیں۔
بھارت میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت کے روپ میں ابھرے ہیںَ اور ایک اندازے کے مطابق ہند میں مسلمانوں کی آبادی بیس کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ لیکن وہ بھی یک جہتی کی راہ پر گامزن نہیں۔
بھارت کے مسلمانوں میں پائے گئے نفاق اورنااتفاقی نے غیر مسلموں کو انداز دگر میں سوچنے اور فرقہ وارانہ فسادات شروع کرانے کا موقع بخشا ہے۔ یہ صورت حال ایک المیہ سے کم نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر دیکھئے بہت سارے مسلم ممالک میں آپسی رنجشی اور کدورت کے باعث افراتفری وبدامنی کا دور دورہ ہے۔لبنان، افغانستان،چیچینا میں مسلمانوں کو مسلکی بنیاد پر لاتعداد مصائب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ٹھہری کہ سعودی عرب کے حکمرانوں کو حرمین شریف کی حفاظت کے لئے امریکہ یا فرنگی عساکر کا دست نگر ہونا پڑا ہے۔ گویا مسلمانوں کو قبلہ کے تحفظ کی خاطر بھی اسلام دشمن قوتوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ افسوس قبلہ اول( بیت المقدس)کی بازیابی کے لئے مسلمانان عالم کسی بھی طرح کی تحریک چلانے میں بری طرح ناکام نظر آرہے ہیں۔ مسلمان اب سیسہ پلائی دیوار ہیں۔یہ کہنا زیادہ موزوں رہے گا کہ حالیہ صدی میں مسلمانوں کی حیثیت مجموعی طور پر اینٹوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں سے زیادہ نہیں۔
یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ ’’اتحاد بین المسلمین‘‘جمود، نفاق، جہالت خودستائی اور بے حرکتی کی گود سے پیدا نہیں ہوسکتا جن کاآج کا مسلمان خوگر بن چکا ہ۔
اس اصلیت سے کوئی ذی حس انکار نہیں کرسکتا ہے کہ سیاسی میدان میں بھی مسلمانوں کی حیثیت بھارت میں صفر کے برابر ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ ہماری کوئی مشترکہ تنظیم نہیں ہے۔ مسلکی وگروہی سوش وفکر سے ہٹ کر ہم ایک کلمہ گو کی حیثیت سے ایک مشترکہ طرز کا پلیٹ فارم تشکیل دینے میں بُری طرح ناکام رہے۔
بدقسمتی اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ مسلمانان ہند کو اجتماعی طور پر نہ کوئی مرکز ملا اور نہ کوئی رہنما۔
بیس کروڑ کی سب سے بڑی اقلیت کا بس نام ہی نام ہے۔ اُن کی آواز میں زور نہیں۔ اس بڑی جماعت کی کوئی ساکھ نہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اب تک ہم اپنی تنظیم یا جماعت شخص پرستی اور گروہ بندی کے دائرے سے باہر نکل کر تشکیل نہ دے سکے۔
بھارت میں ہر چھوٹے سے چھوٹے فرقہ نے ایک جماعت مستحکم بنیادوں پر تشکیل دے دی ہے اس کے اراکین پر خلوص طور پر سرگرم عمل ہیں۔،انفرادی اغراض کو اجتماعی مفادات پر ترجیح نہ دے کر وہ کامیابی وکامرانی کی منزلیں طے کررہے ہیں۔
پر خلوص قیادت کے زیر ساۂ یہ پارٹیاں سیاسی میدان میں اپنے حقوق کیلئے کوشاں ہیں۔ لاچار ساتھیوں کو راحت وسکون فراہم کرنے کی نیت سے طرح طرح کے ٹھوس وکار گر اقدام اٹھانے میں مشغول ہیں، اس کے برعکس کلمہ گو حضرات فرمان الٰہی کو پس پشت ڈال کر الگ الگ خانوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار نظر آرہے ہیں۔
دراصل دین اسلام کا شجر اصول دین کی جڑوں کی وساطت سے مضبوطی کیساتھ کھڑا ہے۔ تناایک ہے اور فروغ دین کی صورت شاخیں الگ الگ ہیں،کوئی چھوٹی تو کوئی بڑی۔ مسلمانوں کا کلمہ ایک،قبلہ ایک،قرآن ایک،رسول ؐایک،طرز عبادت میں کوئی فرق نہیں، پھر یہ آپسی رنجش وکدورت کیوں؟
کاش ہر مسلک وفرقہ کا کلمہ گو دوسرے پر اعتراض کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ کرلیتا کہ وہ اسلامی اقدار کے فروغ کیلئے عملاً کیا کچھ کررہا ہے وہ اتحاد وہ یک جہتی کیلئے کوششیں کررہا ہے یا نہیں۔ایسا ہو تو کروڑوں مسلمان بزدلی کی زندگی گذارنے کے بجائے اپنے جائز حقوق بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں۔ اور ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ کے لئے راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ کا ش ایسا ہوجائے۔










