مختلف محکموںمیں تعینات سینکڑوں نوجوانوںسے متعلق حل طلب مسائل

ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں8نفری ذیلی کمیٹی تشکیل

سری نگر//حکومت نے ایک اہم اقدام کے بطور مختلف سرکاری محکموں میں سینکڑوں اہل افرادکوملازمت فراہم کئے جانے سے متعلق مختلف اسکیموں کا جائزہ لینے کیلئے فائنانشل کمیشنر(ایڈیشنل چیف سیکرٹری )کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی 8نفری ذیلی یاسب کمیٹی تشکیل دی ہے ،جو اسبات کاجائزہ لے گی کہ رہبرزراعت ،رہبر جنگلات ،رہبرکھیل اوردیگرایسی اسکیموں کے تحت ملازمت فراہم کرنے کی کیا وجوہات تھیں ،اورایسے ملازمین کے مسائل کاکیسے حل نکالا جائے۔غورطلب ہے کہ سابقہ سرکاروںنے متذکرہ بالا اسکیموں کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کومحکمہ زراعت،محکمہ جنگلات،محکمہ اسپورٹس اوردیگر کچھ محکموںمیں ملازمت فراہم کی ہے ،تاہم ایسے سبھی ملازمین کودیگر سرکاری ملازمین کی طرح سروس رولز کی روشنی میں مراعات حاصل نہیں ہیں جبکہ رہبرطرزکی اسکیموںکے تحت تعینات کئے گئے ملازمین کوعام ملازمین کے مقابلے میں کم یامخصوص ماہانہ تنخواہیں فراہم کی جاتی ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر میں مختلف اسکیموں کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کی سرکاری محکموںمیں تعیناتی سے متعلق مسائل حل طلب ہیں کیونکہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ قبل تشکیل دی گئی بیوروکریٹک کمیٹی موجودہ حکومت کو کوئی سفارش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اب حکومت نے فائنانشل کمیشنر(ایڈیشنل چیف سیکرٹری )کی سربراہی ایک ذیلی کمیٹی کو ایک ہی ٹرم آف ریفرنس کے ساتھ تشکیل دیاہے لیکن اس ذیلی کمیٹی کواپنی سفارشات دینے کیلئے کوئی خاص ٹائم فریم نہیں دیاگیاہے۔گزشتہ کچھ برسوں کے دوران جموں وکشمیرمیں حکومت کی جانب سے رہبر زراعت ، رہبر جنگلات اور رہبر کھیل اور اسی طرح کی اسکیموں کے تحت اہل نوجوانوں کومختلف سرکاری محکموںمیں مخصوص شرائط کیساتھ تعینات کیاگیایاکہ ایسے نوجوانوں کوسرکاری محکموںمیں مصروف کیاگیا۔ لیکن ایسے سینکڑوں ملازمین سے جڑے مسائل کوآج تک حل نہیں کیاگیاجبکہ اس حوالے سے کئی اعلیٰ اختیاری یااعلیٰ سطحی کمیٹیاں بھی ماضی میں تشکیل دی گئیں ۔مذکورہ اسکیموں کے تحت ملازمت پانے والے افرادکادیرینہ مطالبہ ہے کہ اُن کی ملازمتوںکوباقاعدہ بنایاجائے اوراُنھیں بھی عام سرکاری ملازمین کی طرح مراعات دی جائیں ۔جبکہ رہبر زاعت ، رہبر جنگلات، رہبر اسپورٹس اوردیگرایسی اسکیموں کے تحت تعینات یامصروف کئے گئے ملازمین سے جڑے مسائل اورمطالبات کاجائزہ لینے کیلئے آخر کار ، موجودہ حکومت نے 27 فروری2020 کوجاری کردہ سرکاری آرڈر نمبرزیرنمبر294-JK(GAD)آف2020کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی۔ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میںفائنانشل کمشنر ، محکمہ خزانہ ، کمشنر سیکرٹری محکمہ جنگلات ، علم الموسمیات اور ماحولیات ، سیکرٹری زراعت پیداوار محکمہ ، سیکرٹری یوتھ سروسز اور محکمہ کھیل ، سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری محکمہ قانون ، انصاف اور پارلیمانی امور پرمشتمل تھی اوراس کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ ان اسکیموں کے تحت کی جانے والی مصروفیات یاتعیناتیوں کی جانچ کرے۔مزید یہ کہ کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ وہ نہرو یووا کیندر کے تحت کی جانے والی مصروفیات کی جانچ کرے۔ موجودہ اور مستقبل کے مالی مضمرات سمیت ان مصروفیات سے پیدا ہونے والے تمام مسائل؛ ان شعبوں کے باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے پر ان مصروفیات کے مضمرات اور ضرورت کے مطابق ایک جامع نقطہ نظر تجویز کرے۔تاہم ، کمیٹی گذشتہ ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے کے دوران ٹرمز آف ریفرنس پر کوئی غور و خوض کرنے میں ناکام رہی جس کی وجوہات اس کے چیئرمین یا ان محکموں سے ہیں جن سے یہ مصروفیات وابستہ ہیں ۔بتایاجاتاہے کہ کمیٹی کے ذریعہ صرف یہ سفارش کی گئی کہ ایک ذیلی کمیٹی کو ٹرمز آف ریفرنس پر بحث کرنی چاہیے۔اب ، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے رہبرزراعت ،رہبرجنگلات ،رہبر کھیل اوردیگر ایسی اسکیموں کے تحت تعینات یامصروف کئے گئے ملازمین سے جڑے مسائل اوراُن کے دیرینہ مطالبات کاجائزہ لینے کیلئے ایک ذیلی یا سب کمیٹی تشکیل دی ہے۔کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ منوج کماردویدی (آئی اے ایس )کی جانب سے 13اکتوبر2021کوجاری کردہ ایک گورنمنٹ آرڈر زیرنمبر1081-JK(GAD)آف2021میں کہاگیا ہے کہ فائنانشل کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکرٹری) محکمہ خزانہ کو ذیلی کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے جبکہ بطور فنانشل کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکرٹری) ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، پرنسپل سیکرٹری یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ ، ڈائریکٹر جنرل (کوڈز)فائنانس محکمہ ، زراعت کی پیداوار اور کسانوں کی بہبود کے محکمے کے نمائندے ایڈیشنل سیکرٹری کے درجے سے نیچے نہیں ، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے ایڈیشنل سیکرٹری کے درجے سے نیچے اور محکمہ قانون کے نمائندے کو سب کمیٹی کا ممبر بنایا گیا ہے۔تاہم ، مرکزی کمیٹی کی طرح ذیلی کمیٹی کے لئے بھی مختلف اسکیموںکے تحت تعینات کئے گئے ملازمین سے جرے مسائل کا جائزہ لینے اور حکومت کو سفارشات دینے کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر نہیں کیا گیا ہے۔