محکمہ ہینڈی کرافٹ نے سمرتھ سکیم کے تحت کشمیر میں قالین بافی کے احیاء کیلئے ہنر مندی کی تربیت کا آغاز کیا

محکمہ ہینڈی کرافٹ نے سمرتھ سکیم کے تحت کشمیر میں قالین بافی کے احیاء کیلئے ہنر مندی کی تربیت کا آغاز کیا

صوبہ کشمیر کے 8 اَضلاع میں 160 کاریگروں کی تربیت شروع

سری نگر//اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) سری نگر نے محکمہ ہینڈی کرافٹس و ہینڈ لوم کے زیرِ اہتمام کشمیر میں صدیوں پرانی ہاتھ سے بنے ریشمی قالینوں کی صنعت کو دوبار بحال کرنے کی سمت ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے مرکزی وزارتِ ٹیکسٹائل کی سمارتھ سکیم (ٹیکسٹائل سیکٹر میں صلاحیت سازی کی سکیم) کے تحت 160 اُمیدواروں کے لئے سکل اَپ گریڈیشن ٹریننگ کا آغاز کیا گیا ہے۔سینٹرل سلک بورڈ (سی ایس بی) نے 2025-26 کے دوران 21,16,800 روپے کی لاگت سے 320 اُمیدواروں کو ’سلک ہینڈلوم ویور (قالین)‘ کی تربیت دینے کے منصوبے کو منظوری دی ہے۔ڈائریکٹر آئی آٗی سی ٹی سری نگر زُبیر احمد نے آج یہاں جاری ایک پریس بیان میں کہا کہ سمارتھ سکیم کشمیر میں قالین سازی شعبے کی بحالی کے لئے وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس میں مہارت کی سطح کو بڑھانا، ڈیزائن کی اِختراعات کو فروغ دینا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور کاریگروں کو عالمی منڈیوں سے دوبارہ جوڑنا ہے تاکہ اس قیمتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے روزگار اور برآمدات کے اِمکانات میں اِضافہ کیا جا سکے۔اُنہوں نے کہا،’’پہلے مرحلے میں آئی آئی سی ٹی نے کامیابی کے ساتھ 160 اُمیدواروں کو رجسٹر کیا اور سری نگر، گاندربل، بانڈی پورہ، پلوامہ، کولگام، اننت ناگ، بڈگام اور بارہمولہ اَضلاع میں 20 تربیت یافتگان پر مشتمل آٹھ تربیتی بیچ تشکیل دئیے گئے ہیں۔‘‘محکمہ ہینڈی کرافٹس و ہینڈ لوم کشمیر نے غیر مرکوزیت اور قابل رَسائی تربیت کو یقینی بنانے کے لئے تمام آٹھ اَضلاع میں مناسب عمارتیں کرایہ پر لے کر جدید قالین بُنائی کے لومز اور آدھار سے فعال بائیو میٹرک حاضری مشینوں سے لیس ایڈوانسڈ کارپٹ ٹریننگ سنٹر قائم کئے ہیں۔ڈائریکٹر آئی آئی سی ٹی نے مزید بتایا کہ اِنسٹی چیوٹ میں ریشمی قالینوں کے جدید اور اِختراعی ڈیزائن بالخصوص دیواری آویزاں قالینوں کے لئے، تیار کئے گئے ہیں جبکہ مطلوبہ خام مال اعلیٰ معیار کے مطابق خریدا اور رنگا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’یہ تربیت رواںبرس 11 ؍مارچ کو اِختتام پذیر ہوگی۔‘‘زُبیر احمد نے سمارتھ کے تحت تربیت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کشمیر کی روایتی ہاتھ سے بنے ریشمی قالینوں کی صنعت کے احیاء کے لئے نہایت اہم ہے جو صدیوں سے ہماری ثقافتی وراثت اور اعلیٰ فنکاری کی علامت رہی ہے۔اُنہوںنے کہا، ’’روایتی تکنیکوں کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید مہارتیں فراہم کر کے ہمارا مقصد مقامی کاریگروں بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کو بااِختیار بنانا اور کشمیر کی قالین صنعت کی کھوئی ہوئی شان عظمت کو بحال کرنا ہے۔‘‘