محکمہ موجودہ صحت سہولیات کو آئی پی ایچ ایس 2022کے معیارات کے مطابق مضبوط بنانے اور توسیع دینے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔سکینہ اِیتو

محکمہ موجودہ صحت سہولیات کو آئی پی ایچ ایس 2022کے معیارات کے مطابق مضبوط بنانے اور توسیع دینے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔سکینہ اِیتو

جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے اسمبلی میں بتایا کہ محکمہ اِس وقت موجودہ صحت سہولیات کی مضبوطی اور توسیع پر توجہ مرکوز کر رہا ہے جو کہ آئی پی ایچ ایس 2022 کے معیارات کے مطابق ہے تا کہ جموں و کشمیر بھر میں مریضوں کو بہتر صحت خدمات فراہم کی جا سکیں ۔ اُنہوں نے یہ بیان قانون ساز الطاف احمد وانی کے سوال کے جواب میں دیا ۔ وزیر نے کہا کہ آئی پی ایچ ایس 2022 کے معیارات کے مطابق جن اضلاع کی آبادی 5 لاکھ سے کم ہے اور جہاں فعال ڈسٹرکٹ ہسپتال ( ڈی ایچ ) موجود ہے وہاں سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ( ایس ڈی ایچ ) کی ضرورت نہیں ہے ۔ 5 سے 10 لاکھ کے درمیان آبادی والے اضلاع میں ایک ایس ڈی ایچ ہو سکتا ہے اور اس کے بعد ہر دس لاکھ آبادی پر ایک ایس ڈی ایچ کو جامع ثانوی سطح کی صحت کی خدمات فراہم کرنے کیلئے غور کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان معیارات کے مطابق 20 لاکھ تک آبادی والے ضلع میں ایک ڈی ایچ اور دو ایس ڈی ایچ ہو سکتے ہیں جبکہ جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں آئی پی ایچ ایس 2022 کے مطابق قابل اجازت سے زیادہ ایس ڈی ایچ موجود ہیں ۔ صحت کی وزیر نے بتایا کہ محکمہ نے این ٹی پی ایچ سی پہلگام کو 50 بستروں والے ہسپتال کی سطح تک اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی ہے ساتھ ہی مختلف کیٹیگریز کے 26 عہدوں کی تخلیق کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ 38 عہدوں میں سے 17 عہدے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کے بھرے جا چکے ہیں ، جن میں 3 کنسلٹنٹس ، 1 میڈیکل افسر اور 1 ڈینٹل سرجن شامل ہیں ۔ وزیر نے مزید کہا کہ خالی عہدوں کو بھرنے کیلئے بھرتی ایجنسی کے ذریعے اور پروموشنز کے ذریعے کوششیں جاری ہیں اس کے علاوہ سالانہ شری امر ناتھ جی یاترا کے دوران ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکس اور دیگر معاون عملے کی دستیابی کو اصل ضرورت کے مطابق نمایاں طور پر بڑھایا جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام ہسپتال میں 50 بیڈز والے بلاک کی تعمیر مستحکم رفتار سے جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کے لئے اضافی بلاک کی تعمیر 1889.90 لاکھ روپے کی لاگت سے جاری ہے جس پر 1100.00 لاکھ روپے کا خراچہ ہو چکا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ مالی سال 2025-26 کے دوران منظور شدہ 400.00 لاکھ روپے کی تخصیص سے 340.00 لاکھ روپے کی رقم عمل آوری ایجنسی کو جاری کی گئی ہے جبکہ کام کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے ایس اے ایس سی آئی کے تحت اضافی فنڈنگ بھی منظور کر لی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ قاضی گنڈ اور پہلگام کے درمیان ٹراما ہسپتال قائم کرنے پر غور نہیں کر رہا ہے کیونکہ ٹراما ہسپتالوں کیلئے خصوصی افرادی قوت ، دیگر معاون عملہ ، اعلیٰ درجے کا سامان اور ماڈیولز آپریشن تھیٹرز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ قاضی گنڈ اور پہلگام کے راستے میں ٹراما سے متعلق اور دیگر صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دو ٹراما کئیر سہولیات دستیاب ہیں ۔ سالانہ شری امر ناتھ جی یاترا کے دوران یاترا کے عرصے میں یاتریوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہیلتھ کیمپس قایم کئے جا رہے ہیں ۔