محکمہ صحت میں نئی عارضی بھرتیوں کی تجویز نہیں

محکمہ صحت میں نئی عارضی بھرتیوں کی تجویز نہیں

ایچ ڈی ایف کے تحت تقرریوں پر حکومت کا واضح مؤقف

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو اسمبلی میں واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں ہاسپٹل ڈیولپمنٹ فنڈ یا کسی اور طریقہ کار کے تحت نئی عارضی (ایڈہاک) بھرتیوں کی فی الحال کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔یہ بات ایک ستارہ شدہ سوال کے جواب میں بتائی گئی، جس میں محکمہ صحت و طبی تعلیم نے کہا کہ 17 مارچ 2015 کو جاری سرکاری حکم نامہ نمبر 43-F کے تحت بھرتیوں پر پابندی سے قبل مقامی تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کو مختلف اسپتالوں میں ایچ ڈی ایف کے تحت تعینات کیا گیا تھا۔یو این ایس کے مطابق محکمہ کے مطابق یہ تقرریاں کم معاوضے پر عارضی بنیادوں پر کی گئی تھیں تاکہ اسپتالوں میں فوری نوعیت کی تکنیکی اور معاون خدمات فراہم کی جا سکیں۔حکومت نے واضح کیا کہ یہ تقرریاں مکمل طور پر عارضی تھیں اور ان کے ذریعے مستقل ملازمت کا کوئی حق یا دعویٰ حاصل نہیں ہوتا تھا۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان تقرریوں کے خاتمے سے اسپتالوں کے کام پر منفی اثر پڑا، حکومت نے کہا کہ ایسا نہیں ہے اور اسپتالوں کی کارکردگی متاثر نہیں ہوئی۔حکام نے مزید بتایا کہ ایچ ڈی ایف کے تحت تعینات عملہ اب بھی جموں و کشمیر کے مختلف طبی اداروں میں خدمات انجام دے رہا ہے۔حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس نوعیت کی نئی بھرتیوں کے لیے فی الحال کوئی پالیسی زیر غور نہیں ہے، اور نہ ہی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو جونیئر ڈاکٹروں یا پیرا میڈیکل اسٹاف کی ایڈہاک بنیادوں پر تقرری کے اختیارات دینے کی کوئی تجویز ہے۔حکومت کے مطابق محکمہ صحت اس وقت ایسے کسی طریقہ کار پر غور نہیں کر رہا۔ اس دوران سرینگر//جموں و کشمیر میں (این ایچ ایم) نے بغیر اجازت عملے کی تعیناتیوں پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو واضح ہدایات جاری کی ہیں۔این ایچ ایم جموں و کشمیر کی مشن ڈائریکٹر ساگر اکرتی نے ایک سرکلر کے ذریعے تمام صحت افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ عملے کی تعیناتی کے حوالے سے جاری کردہ رہنما خطوط پر سختی سے عمل کریں۔سرکلر کے مطابق بار بار ہدایات کے باوجود بعض فیلڈ افسران این ایچ ایم کے کنٹریکچول عملے کو مختلف صحت اداروں میں بغیر اجازت تعینات یا منسلک کر رہے ہیں، جو کہ قواعد کے خلاف ہے۔محکمہ صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند کی جانب سے جاری ہیومن ریسورس فار ہیلتھ رہنما خطوط کے تحت این ایچ ایم عملے کے معمول کے تبادلے یا اٹیچمنٹ کی اجازت نہیں ہے۔سرکلر میں 30 اگست 2025 کے حکم نامہ نمبر 131 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام غیر مجاز اٹیچمنٹس پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہیں اور عملے کو فوری طور پر ان کی اصل تعیناتی کی جگہ پر واپس بھیجنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم بعض علاقوں میں اب بھی ان احکامات کی خلاف ورزی جاری ہے۔مشن ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی چیف میڈیکل آفیسر، بلاک میڈیکل آفیسر، زونل میڈیکل آفیسر یا دیگر متعلقہ افسر اگر غیر مجاز تعیناتی کا ذمہ دار پایا گیا یا عملے کی فوری واپسی یقینی نہ بنا سکا تو اسے ذاتی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔سرکلر میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران ان ہدایات پر لفظاً اور عملاً عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کیونکہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو غیر قانونی اور ناقابل قبول تصور کیا جائے گا۔این ایچ ایم نے اس معاملے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہدایات پر عملدرآمد نہ صرف نظام کی بہتری بلکہ قومی صحت پالیسیوں کے مطابق کام کرنے کے لیے بھی لازمی ہے۔