وادی میں ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت50 کلیدی کرسیاں خالی
سرینگر//محکمہ سماجی بہبود میں عملے کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وادی میں ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ سمیت48 ملازمین کی کرسیاں خالی پڑی ہیں۔جس سے محکمہ کی کارکردگی اور کمزور طبقات کو فراہم کی جانے والی خدمات پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ پورٹ میں مختلف اضلاع کی سطح پر عملے کی کمی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، جس میں سوشیل ورکروںاور دفتری عملے کے اہم عہدوں کی کمی واضح طور پر ظاہر ہوئی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر کشمیرمیں 5 عہدے خالی ہیں، جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ، اسسٹنٹ اکاؤنٹس افسر، اکاؤنٹنٹ، شماریاتی اسسٹنٹ اور ڈویڑنل مکینک شامل ہیں۔دستاویزات کے مطابق سرینگر میں 6 اسامیاں خالی ہیں جن میں ایک سپرنٹنڈنٹ،3کرافٹ اسسٹنٹ،ایک سینئر اسسٹنٹ اور ایک کیس ورکر جبکہ گاندربل میںں 4 عہدے خالی ہیں، جن میں2 کرافٹ اسسٹنٹ، ایک سوشل ورک، ایک سینئر اسسٹنٹ جبکہ بڈگام میں 3 کرافٹ اسسٹنٹ اور ایک سنیئر اسسٹنٹ سمیت4ملازمین کی کمی کا سامنا ہے۔ پلوامہ میں 5 عہدوں کی کمی ہے، جن میں ایک سوشل ورکر، ایک سینئر اسسٹنٹ اور 3 کرافٹ اسسٹنٹ شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق شوپیاں میںں 5 نئے عملے کی ضرورت ہے جن میں ایک سوشل ورک2باورچی اور دو کرافٹ اسسٹنٹ جبکہ ضلع کپوارہ میں 6اسامیاں خالی ہیں جن میں ایک سوشل ورکر، ایک ہیڈ اسسٹنٹ، ایک سینئر اسسٹنٹ اور 3 کرافٹ اسسٹنٹوں کے علاوہ ضلع بانڈی پورہ میں 4 ملازمین کی کمی ہے جن میں ایک سینئر اسسٹنٹ، 2 کرافٹ اسسٹنٹ اور ایک باورچی شامل ہیں۔بارہمولہ یہاں 2 ملازمین کی ضرورت ہے جن میں ایک ہیڈ اسسٹنٹ اور ایک سینئر اسسٹنٹ شامل ہیں۔ضلع اننت ناگ میں 4 ملازمین کے عملے کی کمی ہے جن میں ایک سینئر اسسٹنٹ اور 3 کرافٹ اسسٹنٹ جبکہ کولگام میں 5 افراد کی ضرورت ہے، جن میںایک سینئر اسسٹنٹ، 2 کرافٹ اسسٹنٹ اور 2باورچی شامل ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان خالی عہدوں سے محکمہ سماجی بہبود کی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب ہو نے کا حتمال ہیں، خاص طور پر ان خدمات کی فراہمی میں جو کمزور طبقات کو بروقت اور مؤثر طریقے سے فراہم کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا’’ سماجی کارکنوں اور کیس ورکروں جیسے اہم عہدوں کی کمی سے ان طبقات کو درکار معاونت میں تاخیر ہو سکتی ہے، جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔‘‘اس وقت تک حکام کی جانب سے ان خالی عہدوں پر کوئی رسمی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی عملے کی کمی کو دور کرنے کیلئے کسی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا ہے۔ عوام ان خالی عہدوں کو پر کرنے کیلئے کسی ممکنہ بھرتی مہم یا دیگر اقدامات کے بارے میں معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی ہے جب محکمہ سماجی بہبود کمزور طبقات کی معاونت میں اہم کردار ادا کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے اور اس کی کارکردگی میں خلل آنے سے ان طبقات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔










