محنت کشوں کاعالمی دن ،EJCCاور فوڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن جموں وکشمیرکی مشترکہ تقریب

محکمہ زراعت نے عالمی یوم خوراک منایا

سری نگر// زرعی پیداوار اور بہبود کساناں شعبے نے عالمی یوم خوراک منا یا اور اِس دوران کشمیر صوبہ کے تمام اِضلاع میں محکمہ کی جانب سے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ پرنسپل سیکرٹری زرعی پیدا وار اور بہبود کساناں محکمہ نوین کمار چودھری نے اِس دِن کی اہمیت اُجاگر کی۔اَپنے پیغام میں اُنہوں نے کہا کہ عالمی یوم خوراک ہر برس 16؍ اکتوبر کو منایا جاتا ہے تاکہ بھوک سے دوچار اَفراد کے لئے عالمی بیداری اور عمل کو فروغ دیا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ نامیاتی خوراک ، کیڑے مار اَدویات ، پروسسنگ یا اِضافی چیزوں سے پاک سب کے لئے ضروری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ دُنیا میں تقریباً 821 ملین اَفراد دائمی طور پر غذائی قلت کا شکا ر ہیں ۔ان میں سے 99فیصد ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بنیادی توجہ عالمی بھوک ، مال غذائیت اور غذائیت سے بھرپور خوراک کو تمام اِنسانوں کی بنیادی ضروریات کے طورپر حل کرنا ہے۔نوین چودھری نے کہا کہ اِس عالمی خوراک کے دِن ہمیں خوراک اور خوراک کی ترقی کا احترام کرنا چاہیئے اور خوراک سے متعلقہ کاروبار او ر خوردہ فروشوں کی مدد کرنی چاہیئے۔عالمی یوم خوراک کے موقعہ پر محکمہ ٹہب پلوامہ میں ایک تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے ناظم زراعت کشمیر چودھری محمد اقبال نے کہا کہ عالمی یوم خوراک کو بڑے پیمانے پر منانے کے لئے محکمہ زراعت نے ’’ نیشنل مشن آن ایڈیبل آئلز‘‘ کے تحت پہلے ہی تیل کے بیجوں ( سرسوں ) کے رقبے کو دوگنا کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔ناظم زراعت نے کہا کہ ہماری کاشت کاری برادری کے اعزاز میں محکمہ خوراک نے عالمی یوم خوراک منانے کے لئے وادی کے تمام اَضلاع میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹہب میں ہم فارم میکائزیشن پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہم کسانوں کو مختلف قسم کی فارم مشینری فراہم کر رہے ہیں تاکہ ان کے مزدوری کے اخراجات کو سائنسی طریقے سے کم کیا جاسکے ۔ناظم زراعت نے مزید کہا کہ ہم غذائی پیداوار بڑھانے اور بھوک سے نمٹنے کے لئے زراعتی شعبے میں جدید ترین اقدامات اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بیداری پیدا کر کے عالمی یوم خوراک منارہے ہیں۔اِس موقعہ پر چیف ایگری کلچر آفیسر پلوامہ جی ایم دھوبی، ڈسٹرکٹ ایگری کلچر اَفسران پلوامہ شاہنواز شاہ ، محمد مناف بٹ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔