محکمہ جنگلات نے جنگلات کے حقوق ایکٹ 2006 کے نفاذ پر ورکشاپ کا انعقاد کیا

جموں//کمشنرسیکرٹر ی جنگلات و ماحولیات سنجیو ورما کی صدارت میں جنگلات میں رہنے والے درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگلات کے باشندوں کے لئے فارسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کی عمل آور ی کے لئے ایک تربیتی ورکشاپ کا اِنعقاد کیا۔ورکشاپ میں ترجمانوں نے قبائلی گروپوں اور مختلف شراکت داروں کے ساتھ اِستفساری گفتگو کی جن میں ایف آر سی کے چیئرمین اور ممبران، پی آر آئی ممبران اور ریونیو، جنگلات اور قبائلی امور محکمے کے افسران شامل تھے۔ اس تربیت میں ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کے مطابق ضلعی سطح ، سب ڈویژن کی سطح اور گرام سبھا کی سطح کی جنگلاتی حقوق کمیٹیوں کے کردار اور افعال سمیت فرائض پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ ایکٹ کی عمل آوری میں جنگل میں رہائش پذیر شیڈولڈ ٹرائب اور دیگر روایتی جنگلات کے باشندوں پر جنگلات کے حقوق کو تسلیم کرنا اور ان کو حاصل کرنا شامل ہے جو نسلوں سے جنگلوں میں رہائش پذیر ہیں لیکن جن کے حقوق کو تسلیم نہیں کیا جا سکا۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سنجیو ورما نے ایف آر اے 2006 کی تاریخ ، ایکٹ کی اہم دفعات کے علاوہ جموں و کشمیر میں اس کی عمل آوری کے تناظر میں تفصیل سے بات چیت کی ۔ کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات سنجیو ورما نے مختلف اداروں بالخصوص گرام سبھا ، فارسٹ رائٹس کمیٹی ، ایس ڈی ایل سی اور ڈی ایل سی کے کردار کے ساتھ ساتھ دعوے کی کارروائی میں شامل طریقہ کار کی بھی وضاحت کی ۔ انہوں نے شرکاء کو قبائلی طبقوںکے بارے میں بتایا کہ محکمہ جنگلات نے مائنر فارسٹ پروڈیوس ( ایم ایف پی ) کی نیلامی کا عمل روک دیا ہے یہ عمل جموں و کشمیر میں جنگلات کے حقوق کے قانون کے نفاذ کی وجہ سے گزشتہ70سے 80 برسوں سے جاری تھا ۔ اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ قبائلی اَمور ڈاڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے وضاحت کی کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ 2006 جنگلات میں رہائش پذیر شیڈ ولڈ ٹرائب اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندوں کی لائیولی ہڈمیں تبدیلی لائے گا اور کیپکس پلان کے تحت مرکز ی وزارتِ قبائلی اَمور سے فنڈس کو اِستعمال کر کے کمیونٹی اِنفراسٹرکچر کی تعمیر میں مدد کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ حقوق کو تسلیم کرنے اور فارسٹ رائٹس کے حاملین کو مختلف قسم کے فرائض بھی دیتا ہے تاکہ علاقے کی جنگلی حیات ، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کی جاسکے۔اُنہوں نے دعوئوں کے عمل کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے کہا کہ ٹرائبل ریسرچ اِنسٹی چیوٹ مختلف شراکت داروں کے لئے تربیتی ماڈیول کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو جلد ہی شروع ہونے کا اِمکان ہے۔پی سی سی ایف محکمہ جنگلات ڈاکٹر موہت گیرا نے جموںوکشمیر میں فارسٹ رائٹس کے قانون کی عمل آوری کی صورتحال ، دعوے کے فارم کی تقسیم ، دعوئوں پر کارروائی کے لئے فارمیٹس اور محکمہ جنگلات کے فرنٹ لائن عملے کوفارسٹ ریکارڈ اور نقشے فراہم کرنے اور جی پی ایس ( تکنیکی مدد) فراہم کرنے کے بارے میں تفصیلا ت دیں۔ڈاکٹر موہن گیر نے کہا کہ ایکٹ کو 31؍ اکتوبر 2019ء سے جموںوکشمیر تک بڑھا دیا گیا ہے اور اِس پر عمل در آمد یکم ؍ دسمبر 2020ء سے شروع ہوا تھا ۔ اِس کے علاوہ جنگل کی زمین کو رہنے اور رکھنے کے حقِ ایکٹ معمولی جنگلات مصنوعات پر مالکانہ حقوق فراہم کرتا ہے جو روایتی طورپر جمع کئے جاتے ہیں۔جنگل میں رہائش شیڈول قبائل اور او ٹی ایف ڈی ، چرنے کے حقوق اور روایتی موسمی وسائل تک رَسائی حاصل کرتے ہیں۔کچھ اَضلاع جیسے راجوری ، پونچھ ، بڈگام اور کپواڑہ میں اَب تک زیادہ سے زیادہ دعوے موصول ہوئے ہیں جو تصدیق کے مختلف مراحل میں ہیں اور بڑی تعداد میں دعوئوں کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ڈاکٹر موہت گیر نے کہا کہ جنگلات پر منحصر کمیونٹیوں کے وسائل کے اِستعمال کو بہتر کرنے کے لئے ’’ وَن دَھن یوجنا‘‘ جموںوکشمیر حکومت نے قبائلی اَمور محکمہ کے ذریعے جنگلات پر منحصر قبائلی طبقوں کی جامع ترقی کے لئے شروع کی ہے۔اُنہوں نے شراکت داروں اور شرکأ میں بیداری کے مواد کی آزادانہ تقسیم کے علاوہ بیداری بڑھانے پر بھی زور دیا۔تربیتی ورکشاپ میں فارسٹ رائٹس ایکٹ 2006 پر محکمہ جنگلات کی تیار کردہ ایک مختصر فلم بھی دِکھا ئی گئی۔قبائلی محقق او رسماجی اِصلاح کار ڈاکٹر جاوید راہی نے ورکشاپ میں اِظہار خیال کرتے ہوئے شرکا ٔ کو مختلف اِداروں کے کردار جیسے ایکٹ کی عمل آوری میں ایف آر سی ، ایس ڈی ایل سی اور ڈی ایل سی سطح اور فارسٹ رائٹس کے لئے مختلف طریقہ کار کے ساتھ اِنفرادی اور برادری کے دعوے کے لئے لے درخواست دینے سے لے کر،ایف آر سی رِپورٹ ، گرام پنچایت کی قرار داد وغیرہ اور کلیموں پر غور کرنے میں شامل اہم طریقہ کار اورعمل کے بارے میں آگاہ کیا۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے دیگر ترجمانوں میں سی سی ایف ( ایس اینڈ ڈی ) سیموئیل چانگ کیجا،ڈی ایف او راجوری ڈاکٹر اَرشد یپ سنگھ، ڈی ایف او بلاور وویک مودی اورڈپٹی ڈائریکٹر ٹی آر ٹی محکمہ قبائلی اَمور ڈاکٹر عبدالخبیر شامل تھے۔ورکشاپ میں ایسٹ سرکل کے ڈی ایف اوز ، اے سی آر جموں ، فیلڈ سٹاف بشمو ل رینج اَفسران اور بلاک فارسٹرو اور گجر ،بکروال ، گڈی اور سپی طبقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی طبقوں کے زائد اَز سو اَفراد نے شرکت کی ۔سرپنچ ، پنچ ، ایف آر سی چیئرمین ،صوبہ جموں کے مختلف پنچایتوں کے ممبران اور دیگر شرکأ میں شامل تھے۔