کاروباری اور سرکاری اداروں میں پہلے مرحلے میں میٹر لگیں گے
سرینگر//بجلی کے سمارٹ میٹر نصب کرنے کے بعد اب جل شکتی محکمہ نے ناجائز طور پر پانی کے استعمال کوروکنے سرکاری خزانے کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے میٹرنصب کرنے کافیصلہ کیاہے جس کے تحت پہلے مرحلے پر جموں اور سرینگر میں ایسے میٹرنصب کئے جائینگے اور ا سکے بعد پورے جموں وکشمیر میں پانی استعمال کرنے کے لئے میٹرنصب کئے جائینگے ۔معلوم ہوا ہے کہ جل شکتی محکمہ کی جانب سے آنے والے دنوں کے دوران میٹر نصب کرنے کافیصلہ کیاگیاہے پہلے مرحلے پر جموں اور سرینگر شاہراہوںمیں پانی کے میٹراستعمال کئے جائینگے اور ا سکے بعد پورے جموںو کشمیرمیں پانی کے میٹر استعمال کرنے کاسلسلہ شروع کیاجائیگا۔ جموںو کشمیرمیں پانی کے میٹراستعمال کرنے کے سلسلے میں سرکار جلد ہی احکامات صادر کرنے والی ہے جموںو کشمیرانتظامیہ کے ایک سینئرافسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ ناجائز پانی کے استعمال کوروکنے اور آمدنی میں اضافہ کرنے کی خاطر پانی کے میٹرنصب کرنا ضروری بن گیاہے ۔مزکورہ افسر کے مطابق اب موسم گرماآرہاہے ا ور پانی کی قلت پید اہوجاتی ہے لوگ ناجائز طور پرپانی کااستعمال کرتے ہیں، نلوں کے ذریعے صارفین کوبہم پہنچائی جانے والے پانی کے ذریعے سیب کے باغوں پارکوں کوسیراب کیاجاتاہے گاڑیاں دھوئی جاتی ہیں جسکے نتیجے میں سینکڑوں کنبے پانی سے محروم ہوجاتے ہیںا و رانہیں پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترسنا پڑتاہے پانی کے میٹرنصب کرنے سے غیرقانونی طور پرپانی استعمال کرنے کی کارروائی میں کمی آ جائیگی۔ مزکورہ سینئرافسرکے مطابق پہلے مرحلے پرجموں سرینگر کے شہروں میں اس طرح کے میٹر استعمال کئے جائینگے ۔ہوٹلوں ،اسکولوں، اسپتالوں میںبھی پانی کے میٹراستعمال کئے جائے گے تاکہ لوگ ناجا ئزطور پرپانی کااستعمال کرنا ترک کردے ۔ادھر عوامی حلقوں کے مطابق سرکار لوگوں کے کاندھوںپرمسلسل اضافی بوجھ ڈالتی جارہی ہے اور مسلسل بجلی فیس اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ کرنے سے عام انسان متاثر ہوگا اور ا سے اپنی ضرورتوں کوپورا کرنے میں اضافی مشکلات سے گزرنا پڑیگا۔عوامی حلقوں کے مطابق وادی کشمیر پانی کی سرمایہ سے مالامال ہے تاہم وادی کشمیرمیں سب سے زیاد ہ پانی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے او ر اسکی بنیادی وجہ جل شکتی محکمہ کی خامیاں بدانتظامی او رلاپرواہی ہے جسکی سزا عوام کوبگھتنا پڑرہاہیں ۔










