محمد یونس کی بینکاک میں مودی سے ملاقاتحسینہ واجد کی حوالگی کا مسئلہ پھر اٹھا دیا

محمد یونس کی بینکاک میں مودی سے ملاقاتحسینہ واجد کی حوالگی کا مسئلہ پھر اٹھا دیا

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ و نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس نے بینکاک میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، اور ڈھاکا کی جانب سے حسینہ واجد کی حوالگی کی درخواست پر تبادلہ خیال کیا۔
ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا کہ وزیر اعظم (مودی) نے زور دیا کہ ماحول کو خراب کرنے والی کسی بھی بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
مودی اور یونس کی ملاقات بینکاک میں بمسٹیک یا خلیج بنگال انیشی ایٹو فار ملٹی سیکٹرل ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی جس میں تھائی لینڈ، میانمار، نیپال، سری لنکا اور بھوٹان بھی شامل ہیں۔
بھارت حسینہ واجد کی حکومت کا سب سے بڑا بینیفشری تھا اور ان کا تختہ الٹنے سے سرحد پار تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں محمد یونس نے گزشتہ ماہ چین کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات، جو حسینہ واجد کے دور میں مضبوط تھے، اس وقت سے خراب ہوئے ہیں جب انہوں نے طلبہ کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے پیش نظر ملک چھوڑ دیا اور بھارت میں پناہ لی۔
بنگلہ دیش نے دونوں رہنماؤں کے درمیان 40 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت کو ’واضح، نتیجہ خیز اور تعمیری‘ قرار دیا۔
محمد یونس کے پریس آفس نے ایک بیان میں کہا کہ عبوری سربراہ نے نریندر مودی کو بتایا کہ بنگلہ دیش دونوں ممالک کے فائدے کے لیے تعلقات کو صحیح راستے پر لانے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔
بنگلہ دیش میں رائے عامہ حسینہ واجد کو پناہ گاہ فراہم کرنے کے فیصلے پر بھارت کے خلاف ہوگئی ہے، نئی دہلی نے ڈھاکا کی اس درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا جس میں حسینہ واجد کو مقدمے کی سماعت کے لیے واپس بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی۔