mehbooba mufti

محبوبہ مفتی نے سرینگر میں نوجوانوں کا سیشن منعقد کیا، مکالمے پر زور

سابق وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی پر کیا تشویش کااظہار

سرینگر//وی او آئی//سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اتوار کو راج باغ کے ایک ہوٹل میں نوجوانوں کے ساتھ دن بھر جاری رہنے والا انٹریکشن سیشن ‘کَتھ بات’ منعقد کیا، جس میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر گفتگو ہوئی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا سیشن تھا جس میں طلبہ، نوجوان پروفیشنلز اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکاء￿ نے روزگار، کیریئر کے مواقع، مستقبل کے امکانات اور دیگر مسائل پر اپنی رائے پیش کی۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس نشست کا مقصد فوری حل دینا نہیں بلکہ ایک مکالمے کی فضا قائم کرنا ہے۔ میںیہاں تیار شدہ حل دینے نہیں ا?ئی۔ میرا مقصد سننے اور سمجھنے کے لیے جگہ بنانا ہے۔ جب عوامی جگہ سکڑ رہی ہے تو کم از کم ہمیں اپنے لوگوں کو سننا چاہیے۔انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ نوجوان کیوں تشدد اور موت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ دہلی میں حالیہ کار دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نوجوانوں کی بیگانگی اور عدم مکالمے پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ محبوبہ نے بتایا کہ انہوں نے میر واعظ عمر فاروق کو بھی مدعو کیا تھا لیکن وہ پابندیوں کے باعث شریک نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی انہیں باہر جانے کی اجازت ملتی ہے اور کبھی نظر بند رہنا پڑتا ہے۔اس نشست میں پی ڈی پی رہنما نعیم اختر، وہید پرا اور آغا منتظر مہدی بھی موجود تھے جنہوں نے نوجوانوں کے سوالات سنے اور ان سے تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے کہا کہ ‘کَتھ بات’ جیسے پلیٹ فارم نوجوانوں کو اپنی زندگی اور مستقبل سے متعلق مسائل پر کھل کر بات کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔