برقعہ واقعے پر نتیش کمار سے معافی اور استعفیٰ کا مطالبہ
سرینگر//وی او آئی//جموں و کشمیر کی سینئر سیاسی رہنما محبوبہ مفتی اور آغا سید روح اللہ مہدی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اس واقعے پر شدید مذمت کی ہے جس میں ایک ویڈیو کے مطابق وہ سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون کے برقعہ کو کھینچتے دکھائی دیے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ اس واقعے سے گہرے صدمے میں ہیں اور ماضی میں نتیش کمار کو ذاتی طور پر جانتی اور ان کی قدر کرتی رہی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل یا تو بڑھاپے کا نتیجہ ہے یا پھر مسلمانوں کو عوامی سطح پر ذلیل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی علامت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اصل تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ موجود افراد اس منظر کو تماشے کے طور پر دیکھ رہے تھے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسا رویہ کسی اعلیٰ آئینی منصب پر فائز شخص کے شایانِ شان نہیں اور سوال اٹھایا کہ کیا اب وقت آ گیا ہے کہ نتیش کمار عہدہ چھوڑ دیں ۔اسی طرح نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی اس واقعے کو ناقابلِ دفاع اور نہایت پریشان کن قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر کسی مسلم خاتون کے برقعہ کو کھینچنا وقار اور ذاتی احترام کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔روح اللہ نے مطالبہ کیا کہ نتیش کمار خاتون اور عوام سے غیر مشروط معافی مانگیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس رویے نے وزیر اعلیٰ کی ذہنی کیفیت اور توازن پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو کسی آئینی منصب کے لیے لازمی ہیں ،انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد نتیش کمار کو طبی معائنہ کرانا چاہیے اور منصب سے الگ ہو جانا چاہیے ۔یہ واقعہ سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت ردعمل کا باعث بنا ہے اور بہار حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔










