سرینگر/// ماہ رمضان کے دوران جہاں اشیائے خودنی کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے وہیں بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء کھلے میں فروخت کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں گردوغبار میں لپٹی استعمال کرنے والے لوگ کئی طرح کی بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں۔ ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ہم نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ دکاندار جوتے ،ملبوسات اور دیگر ایسی چیزیں شیشے کی المیاریوں میں رکھتے ہیں تاکہ ان کو دھول نہ پکڑے تاہم گوشت، دودھ ، پنیر اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کو کھلے میں دھول چاٹنے کیلئے رکھا جارہا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ماہرین صحت نے اس بات پر تشویش کااظہار کیا ہے کہ وادی کشمیر میں محکمہ فوڈ سیفٹی کی کارکردگی زمینی سطح پر صفر ہونے کے نتیجے میں لوگ بازاروں سے خود ہی بیماریاں خرید رہے ہیں۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کئی ڈاکٹر صاحبان نے بتایا کہ آج کے جدید دور میں جب سب لوگ اس بات سے بخوفی واقف ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کو جتنی صاف وصفائی سے رکھا جائے گا بیماریاں اتنی ہی کم ہوں گی۔ انہوںنے کہا کہ لوگ گوشت ، دودھ اور پنیر جیسی مقوی غذا اسلئے خریدتے ہیں تاکہ ان کے جسم کو توانائی ملے اور وہ صحت مند رہیں تاہم صحت کے برعکس وہ ان چیزوں کے استعمال سے کئی طرح کی بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں کیوں کہ ان چیزوں کو گردغبار سے بچانے کیلئے دکانداروں کوئی قدم نہیں اْٹھاتا ہے بلکہ ان کو دکانوں سے باہر یا کھلا رکھ دیتے ہیں تاکہ گراہکوں کی نظر ان اشیاء پر پڑے جس کے نتیجے میں بازاروں میں چلنے والی گاڑیوں کا دھواں ، سڑکوں سے اْٹھنے والی دھول اور ہوا میں پھیلے جراثیم ان چیزوں کو آلودہ کردیتے ہیں اس کے علاوہ ان چیزوں پر ایسے مکھیاں بھی منڈلاتی رہتی ہیں جو ناپاک چیزوں پر بھی بیٹھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں یہ اشیاء کھانے کے لائق نہیںٰ رہتی۔ ڈاکٹر صاحبان کا کہتا تھا کہ ہم اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ دکانوں میں جوتے ، ملبوسات، اور دیگر قسم کی ایسی ایشاء جس کو ہم کھانے پینے کیلئے استعمال نہیں کرتے اور جن کے اوپر اگر دھول بیٹھے گی تو ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کو شیشوں کی الماریوں میں گردوغبار سے محفوظ رکھتے ہیں اور گوشت، دودھ، پنیر، سبزیاں اور میوہ جات کو دھول چاٹنے کیلئے باہر سڑکوں پر رکھ دیتے ہیں تاکہ گراہکوں نظر اس پر پڑے۔ انہوں نے کہاکہ گراہکوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کس دکان میں کون سی چیز ملتی ہے تو ان کھانے پینے کی چیزوں کو کھلا رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس کیلئے جو محکمہ قائم کیا گیا وہ بھی نظریں چراتا ہے جس کے نتیجے میں ایشاء خوردنی کو دھول و آلودگی سے محفوظ رکھنے کیلئے دکاندار کوئی طریقہ کار اختیار نہیں کرتا۔
اکھلیش یادو کا بی جے پی حکومت پر حملہ- ’کسان نظرانداز، بارش و ژالہ باری سے فصلیں تباہ‘
انڈین آئل کی بڑی کارروائی، 10600 معائنوں کے بعد کئی ایجنسیوں کو نوٹس
’دہلی میں کسانوں سے وعدہ خلافی، بنگال میں سیاست‘، ڈاکٹر نریش کمار کا ریکھا گپتا پر سخت حملہ
ترک صدر طیب ایردوان کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی
نیتن یاہو کو اخلاقی درس دینے کا کوئی حق نہیں
امریکی فوجی کمانڈرزکے ایران جنگ کو مذہبی رنگ دینے پرپوپ کی شدید مذمت
ایران۔ امریکہ ملاقات بہت اچھی رہی: ٹرمپ
جے ڈی وینس مذاکرات کے بعد امریکہ روانہ
ہمارے 70فیصد دفاعی اخراجات امریکہ کو جانے کا وقت گزرچکا:کینیڈا
امریکہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایران کا کہنا ہے کہ ’بال امریکہ کے کورٹ میں‘










