جو امتیاز و حیثیت ماہ رمضان کے مہینے کو حاصل ہے وہ باقی مہینوں کو نہیں ہے کیونکہ یہی وہ مہینہ ہے جب تمام مسلمان بندے خدائے برحق کے مہمان ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ خدا جو میزبان ہے اپنے مہمان سے کھانے پینے کا حساب نہیں لیتا مگر دیکھا جائے تو روزہ صرف دن بھر بھوکے رہنے اور دیگر غلط خوا ہشات سے دور رہنے کا نام نہیں بلکہ پورے وجود کے ہر اعضاء کو بارگاہ الہی میں سونپ کر فطری تقاضوں پر قانون اسلام کا پھرا بیٹھادینے کا نام ہے۔آنکھ، کان، ہاتھ پیر ،دل و دماغ سب معبود کے حق میں کام کریں یعنی اگر روزہ رکھو تو اپنی زبانوں کو جھوٹ سے بچاؤ نا محرم خواتین اور فحش مناظر پر آنکھیں بند رکھو،جھگڑا فساد، غیبت حسد اور گالی گلوچ سے دور رہو۔ الغرض یہ کہ ماہ رمضان میں ایک روزدار کو فحشات اور لغویات سے ہر حال میں دور رہنا چاہئے۔ ایک روزدار کو اپنی زبان سے گالی گلوچ کرنے سے پرہیز کرنا چاہے ۔کیونکہ اتنی غیر مہذب زبان کا مالک کوئی انسان خدا کا مہمان نہیں ہوسکتا ۔ اس بات کو مکمل طور پر ذہین نشین کرنا چاہئے کہ صرف کھانے پینے سے پرہیزکانام روزہ نہیں بلکہ اپنے اقوال و اعمال کو برائیوں سے ہر حال میں محفوظہ اور دور رکھنے کانام روزہ ہے ۔ماہِ رمضان المبارک وہ مبارک مہینہ ہے جس میں ہر انسان کی ہدایت کے لئے قرآن شریف نازل ہوا۔جس شخص نے اس مہینہ میں ایمان اور حصول ثواب کی نظر سے روزہ رکھا تو اُس کے اگلے گناہ سب بخش دئےجاتے ہیں اور جس شخص نے اس مہینے کی راتوںمیں ایمان اور ثواب پانے کی غرض سے قیام کیا ۔ تو اُس نے آتش دوزخ سے نجات پائی،یہ وہ مہینہ ہے جس کو خدانے تمام مہینوں پر بزرگی دی ہے ۔اس مہینے میں صدقہ وخیرات کرنا چاہے۔لزت دُنیا سے بچنا اور گناہوں سے تو بہ کرنی چاہے ۔ اس مہینہ میں ہر روز ایک ایک فرشتہ ہر ایک روزدار کےسر پر خواںرحمت لئے کھڑا ہوتا ہے کہ کب روزدار افطار کرے اور وہ فرشتہ طبق رحمت اُس کے سر پرنثار کردے۔










