عید سے قبل ایل پی جی سلنڈروں کے لیے طویل قطاریں، صارفین گھنٹوں انتظار پر مجبور
سرینگر/یو این ایس / عیدالفطر سے قبل وادی کشمیر میں ایل پی جی سلنڈروں کی گھبراہٹ میں خریداری دیکھنے کو مل رہی ہے، حالانکہ انتظامیہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ خطے میں کم از کم پندرہ دن کا گیس ذخیرہ دستیاب ہے۔اطلاعات کے مطابق سرینگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع میں صارفین بڑی تعداد میں ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے کے لیے ایجنسیوں اور ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کا رخ کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگوں کی لمبی قطاریں بھی دیکھی گئیں جس سے بازاروں میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باوجود وادی میں گھریلو استعمال کے لیے گیس کی مناسب فراہمی موجود ہے اور عوام کو غیر ضروری طور پر ذخیرہ اندوزی یا گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کرنا چاہیے۔انتظامیہ کے مطابق مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی اور توانائی سپلائی سے متعلق خبروں کے باعث لوگوں میں خدشات پیدا ہوئے ہیں، تاہم متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں فی الحال ایل پی جی کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی میں موجود گیس ڈپوؤں اور ڈسٹری بیوشن مراکز پر مناسب مقدار میں سلنڈر دستیاب ہیں اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔ادھر شہریوں کا کہنا ہے کہ عید کی آمد اور ممکنہ قلت کی خبروں کے باعث وہ پیشگی سلنڈر حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ بعد میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف ضرورت کے مطابق ہی ایل پی جی خریدیں تاکہ تمام صارفین کو بروقت گیس دستیاب رہ سکے۔مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب کشمیر میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں جہاں ممکنہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر لوگوں نے ایل پی جی سلنڈروں کی گھبراہٹ میں خریداری شروع کر دی ہے۔ ماہِ مقدس رمضان کے دوران اور عیدالفطر کی آمد سے قبل گیس کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باعث گیس ایجنسیوں کے باہر طویل قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق سرینگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع میں صارفین کو گیس ایجنسیوں کے باہر گھنٹوں انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا جہاں لوگ گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں سحری اور افطار کی تیاری کے لیے گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے جبکہ عید کے قریب آتے ہی گھروں میں پکوان اور دیگر تیاریوں کے باعث طلب مزید بڑھ جاتی ہے۔متعدد صارفین نے شکایت کی کہ انہوں نے سرکاری نظام کے تحت پہلے ہی سلنڈر بک کروائے تھے اور تصدیقی پیغامات بھی موصول ہوئے، تاہم اس کے باوجود گھروں تک سپلائی میں تاخیر ہو رہی ہے جس کے باعث انہیں خود گیس ایجنسیوں کے باہر قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔سرینگر میں ایک گیس ایجنسی کے باہر قطار میں کھڑے ایک صارف مظفر احمد ملک نے بتایا کہ وہ تقریباً چار گھنٹوں سے اپنے سلنڈر کے حصول کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق رمضان کے دوران گیس کی کھپت زیادہ ہوتی ہے اور عید کی تیاریوں کے پیش نظر لوگ کسی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے پیشگی انتظام کرنا چاہتے ہیں۔وادی کے مختلف علاقوں سے بھی اسی نوعیت کی شکایات سامنے آئی ہیں جہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ سپلائی میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کے باعث گھریلو صارفین میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب گیس ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ وادی میں ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے اور موجودہ رش دراصل لوگوں کی جانب سے ضرورت سے زیادہ سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔ ایل پی جی ڈیلرز فیڈریشن کشمیر کے صدر نے کہا کہ وادی میں ایل پی جی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور سپلائی کا نظام معمول کے مطابق جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رمضان اور عید کے پیش نظر لوگ اضافی سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے مقامی سطح پر عارضی دباؤ پیدا ہو رہا ہے اور معمول کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق صارفین میں پائی جانے والی تشویش کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی بھی ہے، کیونکہ یہ خطہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ خلل کی صورت میں عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔










