ماہ رمضان تزکیہ نفس اور صبر کا مہینہ ہے:مولانا اخضر حسین

جامع مسجد حبہ کدل میں خطبہ، جمعہ، گناہوں سے توبہ پر زور

سرینگر// یو این ایس // علمائے احناف کے سربراہ اور وادی کے سرکردہ خطیب مولانا اخضر حسین نے جمعہ کے روز ماہِ مقدس رمضان المبارک کے استقبال کے سلسلے میں ایک جامع، پر مغز اور مدلل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ تزکیہ نفس، صبر، تقویٰ اور سماجی اصلاح کا عظیم مہینہ ہے۔یو این ایس کے مطابق مولانا اخضر حسین حبہ کدل میں حضرت روپہ ریشیؒ کے آستانِ عالیہ سے منسلک جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے موقع پر خطاب کر رہے تھے، جہاں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک انسان کو خود احتسابی، کردار سازی اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہایہ مہینہ ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ، دلوں کی صفائی اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف عملی جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔علمائے احناف کے سربراہ نے کہا کہ روزہ صرف ظاہری عبادت نہیں بلکہ زبان، نظر، کان اور دل کے روزے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔مولانا نے واضح کیا’’جب تک انسان جھوٹ، غیبت، دھوکہ دہی اور ظلم سے باز نہیں آتا، اس وقت تک روزے کا اصل مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔‘‘انہوں نے اہلِ ایمان پر زور دیا کہ وہ رمضان المبارک میں نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور محتاجوں کی مدد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔مولانا اخضر حسین نے کہا کہ رمضان بھائی چارے، ہمدردی اور مساوات کا پیغام دیتا ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس مہینے میں غریبوں، یتیموں اور بے سہارا افراد کا خاص خیال رکھیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے معاشرتی بگاڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’بدعنوانی، فحاشی، نشہ خوری اور اخلاقی انحطاط نے ہمارے سماج کو کمزور کر دیا ہے، رمضان ہمیں ان برائیوں کے خلاف اجتماعی اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘انہوں نے نوجوانوں کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ رمضان المبارک کو اپنی زندگی بدلنے کا نقط آغاز بنائیں اور دین و اخلاق کو مضبوطی سے تھام لیں۔خطبے کے اختتام پر مولانا اخضر حسین نے عالمِ اسلام، جموں و کشمیر اور پوری انسانیت کیلئے امن، خوشحالی اور استحکام کی دعا کی، جبکہ سامعین نے آمین کہہ کر دعاؤں میں شرکت کی۔