ماہانہ 90کروڑ روپے بطوربجلی فیس وصول کرنے کاہدف

ماہانہ 90کروڑ روپے بطوربجلی فیس وصول کرنے کاہدف

سری نگر//ماہانہ بجلی فیس میں یکایک200سے300فیصدتک کااضافہ کئے جانے پرلاکھوں صارفین سخت نالاں وپریشان ہیں جبکہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے صارفین کودی جانے والی خصوصی رعایت بھی ختم کردی گئی ہے ۔بجلی فیس میں اضافے کولیکر سری نگرکے مہجورنگراوراسکے نواحی علاقوں کے لوگ سخت ناراض ہیں ،اورانہوں نے بجلی فیس میں اضافے کوسراسرناانصافی قرار دیتے ہوئے سوال کیاکہ کیا حکومت غریب لوگوں کاخون چوس کر بجلی نظام کوزندہ رکھنا چاہتی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق حالیہ کچھ مہینوں کے دوران عام تاجروں وکاروباری طبقے کیساتھ ساتھ عام صارفین کے ماہانہ بجلی فیس میں 200سے300فیصدتک کااضافہ کیاگیا ہے ۔بجلی فیس میں مسلسل اضافے نے عام لوگوں کی پریشانی بڑھادی ہے ،کیونکہ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں سے لیکر متوسط طبقے سے وابستہ کنبے بھی اتنے زیادہ بجلی فیس کابوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں ۔شمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیر کے کئی عام بجلی صارفین نے کہاکہ ہمیں دورقدیم میں دھکیلا جارہاہے جبکہ گھروں میں روشنی کیلئے لالٹین وغیرہ کااستعمال کیاجاتاتھا۔انہوںنے بتایاکہ بجلی فیس اوردیگرکچھ معاملات میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں ،جن کوBPLکے درجے میں رکھاگیاہے ،کو خصوصی رعایت دی جاتی تھی ،لیکن اب چاول سے لیکر بجلی فیس تک سبھی رعایات کوایک ایک کرکے ختم کیاجارہاہے ۔غریب صارفین نے بتایاکہ محنت مشقت کرکے ہم بمشکل اپنے کنبوں کودووقت کی روٹی فراہم کرپاتے ہیں اورایسے میں جب ہمیں کافی زیادہ بجلی فیس اداکرنے پرمجبورکیاجائیگاتوہمارے اہل خانہ کوفاقہ کشی کاسامنا کرنا پڑے گا۔کئی ایسے صارفین نے بتایاکہ جب وہ محکمہ بجلی کے کسی فیلڈ ملازم یاانجینئر سے بات کرتے ہیں تووہ یہ کہہ کراپنے ہاتھ کھڑے کرتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے ہیں ،ہمیں اوپر سے آرڈر ملاہے ۔انہوںنے بتایاکہ اگر محکمہ بجلی کوخسارے کاسامنا ہے توا سکی سزاعام صارفین کواُن کاخون چوس سے نہیں دی جانی چاہئے ،کیونکہ یہ سراسر ناانصافی اورغیرانسانی اقدام ہے ،جس پرحکومت وقت کوسرنوغور کرنا چاہئے ۔ایک پڑھے لکھے غریب بجلی صارف نے کہاکہ ہم دورجہالت یابامطلعق العنان حکمرانوں کے دورمیں نہیں جی رہے ہیں بلکہ ہمارے یہاں جمہوری نظام رائج ہے ،جس میں فلاحی ریاست کے قیام اوریہاں رہنے والے سبھی لوگوںکی فلاح وبہبود کواولین ترجیح دینے کی بات کہی گئی ہے ۔اس دوران معلوم ہواکہ ماہ جولائی 2021میں جموں وکشمیرمیں 3لاکھ سے زیادہ صارفین نے ڈیجٹل موڑیاآن لائن کے ذریعے ماہانہ بجلی فیس اداکیا اورماہ جولائی میں اداکئے گئے بجلی فیس کاحجم 35کروڑ روپے سے زیادہ ہے جبکہ محکمہ بجلی کے ذرائع کاکہناہے کہ حکومت نے ماہانہ90کروڑ روپے بجلی فیس صارفین سے وصول کرنے کانشانہ محکمہ بجلی کے اعلیٰ انجینئروں کودیاہے ۔اس دوران بجلی فیس میں اضافے کولیکر سری نگرکے مہجورنگراوراسکے نواحی علاقوں کے لوگ سخت ناراض ہیں ،اورانہوں نے بجلی فیس میں اضافے کوسراسرناانصافی قرار دیتے ہوئے سوال کیاکہ کیا حکومت غریب لوگوں کاخون چوس کر بجلی نظام کوزندہ رکھنا چاہتی ہے ۔مہجور نگرکے لوگوںنے بتایاکہ کچھ ماہ قبل ہم ماہانہ زیادہ سے زیادہ500روپے بجلی فیس اداکیاکرتے تھے لیکن اب ہمیں ماہانہ1500روپے بجلی فیس کی بلیں بھیجی گئی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اس علاقے میں زیادہ ترلوگ BPLکے زمرے میں آتے ہیں ،کیونکہ ایسے بیشتر لوگ محنت مزدور ی کرتے ہیں ،آٹو رکھشا یاکسی کی گاڑی چلاتے ہیں ۔مہجور نگرکے کچھ ایک ناراض صارفین نے کہاکہ شاید حکومت سوچتی ہے کہ ہمارے رہائشی مکان دودومنزلہ ہیں اورہمارے معاشی ومالی اعتبار سے کافی مستحکم ہیں لیکن حکومت یہ نہیں جانتی ہے کہ ان مکانات میں کتنے کنبے رہتے ہیں اوراُن کاذریعہ معاش کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے بینکوں سے قرضہ Loanلیکر یہ مکان بنائے ہیں اورہم ماہانہ قسطیں اداکرکے اس قرضے سے نجات پانے کی کوشش کررہے ہیں ،اورایسے میں اگر ہمیں ماہانہ 1500روپے بجلی فیس اداکرناپڑے گی توبھلاہم بینک کوکیا قسط دیں گے اورگھروالوںکی ضروریات کوکیسے پورا کریں گے ۔