مالی بحران سے عوامی حلقوں میںاضطراب، تجارت ٹھپ ہونے تاجراور کاروباری افراد سخت پریشان حال

سرینگر / /مرکزی سرکارکے فیصلے کے بعد جموں وکشمیر میں ہڑتال وبندشوں اور کوروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈاوان نے اقتصادی بحران کھڑا کیا ہے ۔ان دونوں واقعات سے تجارتی سرگرمیاں بُری طرح متاثر ہوئیں۔اگر چہ لاک ڈاون کے خاتمہ کے بعد کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئیںلیکن مجموعی طور لوگوں کے پاس وہ سکت باقی نہیں رہی ہے جس سے وہ جم کر خریداری کر سکیں گے۔ان بازار میں جب آجکل جاتے ہیں جن میں ایک سال قبل اتنا رش ہوا کرتاتھا کہ پائوں ڈالنے کی گنجائش نہیں ہوتی تھی لیکن آجکل وہ بازار سنساں اور خاموش لگ رہے ہیں اور دکاندار خریداروں کی تلاش میں دکانوں سے نیچے آکر سڑکوں پر ساز وسامان سمیت خیمہ زن ہوتے ہیں ۔جبکہ اس سے پہلے خریداروں کو دکان تک رسائی لینے کیلئے کافی تکدو کرنی پڑتی ہے لیکن حالات نے کروٹ بدلی ۔اسی طرح سے غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین محنت ومشقت کرکے اپنا روزگار چلاتے تھے لیکن ان اداروں میں گذشتہ دوسال سے مسلسل خسارہ کی وجہ سے ان ملازمین کا روز گار بھی متاثر ہوا ان کی تنخواہیں یا تو کاٹ دی گئی یا ادارہ سے برطرف کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ روز گار سے ہاتھ دھو بیٹھے اور وہ خریداری نہیں کرسکتے ہیں ۔کئی صنتیں یہاں کی اقتصادی بحالی کے لئے اہم ذرایعے تھے لیکن وہ ذرایعے بھی خسارہ اور نقصان کی شکار ہوئے اور یہ بھی اقتصادی بحران کی ایک اہم وجہ ہے ۔اگر چہ ہر دکان کے سامنے 50فیصدی چھوٹ کے اشتہارات چسپان ہیں لیکن پھر بھی خریدار نہیں ہے ۔اس سلسلے میں شہر سرینگر اوردیگر کئی قصبہ جات کے دکاندار وں نیکشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کی تجارت کافی متاثر ہے اور صرف قرضہ داروں کا قرضہ چکانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں جبکہ خریداروں کی ان کو ہروقت تلاش رہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال کے دوران ان کی دکانیں بند رہیں اور ان لاک کے بعد اب اگر چہ دکانیں کھلی ہیں لیکن خریداروں کے پاس وہ سکت باقی نہیں ہے کہ وہ ان سے کپڑا یا دوسرے اشیاء خریدسکیں ۔انہوں نے کہا کہ جہاں دکاندار کپڑے کے ایک میٹر میں 30فیصدی بھی منافع کماتا تھا وہیں وہ اب 5فیصدی پر بھی راضی ہے لیکن اس کے باوجود بھی خریدار کم اور قرضدار زیادہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کوئی خریدار 50ہزار روپے کو دکاندار سے اشیا ء لیتا تھا اور50 فیصدی ادھار رکھتا تھا ۔لیکن اب ’’نو نقد نو تیرہ ادھار ‘‘ والا معاملہ ہے ۔یہ بھی تجارتی سرگرمیو ں میں کمی ہونے کی ایک وجہ بتاسکتے ہیں ۔کے پی ایس کے ایک مشاہدہ کے مطابق شہر سرینگر کے حساس اور ممتاز بازار بشمول لیمبراٹ لین ،سنٹرل مارکیٹ ،ریگل چوک ،جنگلات گلی ،گونی کھن ،فئیر ڈیل مارکیٹ اور قصبہ جات کے بازار جنگلات منڈی ،کے پی روڑ ،قصبہ سوپور کے بازار ،بارہمولہ کا مین چوک یا وادی کے دیگر بازاروں میں اگر چہ لوگوں کی گہماگہمی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن خرایداری بالکل کم ہے اور دکانداروں کے کہنے کے مطابق نہ ہونے کے برابر ہے ۔ان کا ماننا ہے کہ وہ قرض دکانداروں کی ہفتہ وار وگرائے بھی پورا کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور ہر ہفتہ ان کو ایسی پریشانی کا سامنا کرناپڑرہا ہے کہ ان کی راتوں کی نیندیں بھی حرام ہوئی ہیں ۔اس طرح سے مجموعی طور حالات کافی دگر گوں ہے اور اقتصادی حیثیت سے لوگ پیچھے ہورہے ہیں ۔ہوٹلوں اور ریستوران اقتصادی بحالی کا ایک اہم وسیلہ تھا لیکن ان حالات کی وجہ سے ہوٹل اور ریستوران ویران ہیں ۔ان میں کام کرنے والے ملازمین بھی بے کار ہوئے جبکہ ان ہوٹلوں میں معمول کارش بالکل معدوم ہوچکا ہے ۔اب یاہوٹل مالکان کرایہ پر کمرے دے رہے ہیں یا اپنے عام مصرف میں رکھے ہوئے ہیں ۔مالی بدحالی نے ہر سو اپنا ڈھیر ہ جمادیا ہے۔ان حالات میں سرکارپر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اقتصادی بحران کو کم کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ یہاں کے عوام کو راحت مل سکے اورکاروباری سرگرمیاں بحال ہوجائیں ۔