مالے/ ایم این این//مالدیپ نے بھارت سے درخواست کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف اپنی کوششوں میں تعاون کرے — خاص طور پر ان نیٹ ورکس کے خلاف جو مبینہ طور پر پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق، نئی دہلی اور مالے کے درمیان حالیہ بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ صرف ایک داخلی خطرہ نہیں بلکہ ایک علاقائی سیکیورٹی چیلنج بھی ہے، جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بڑھاوا دیتا ہے۔حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی نیٹ ورکس مالدیپ کو ایک ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ منشیات کو مشرقی افریقہ اور ایشیا کے دیگر حصوں میں منتقل کیا جا سکے۔ یہ غیر قانونی تجارت دہشت گرد گروپوں کی مالیات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔مالدیپ کی حکومت نے بھارت کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، خاص طور پر انٹیلیجنس شیئرنگ، کوسٹ گارڈ پٹرول، اور منشیات مخالف آپریشنز کے شعبوں میں۔بھارت، جو پہلے ہی مالدیپ کو کوسٹل ریڈارز، پیٹرول ویزلز، اور ٹریننگ مہیا کر رہا ہے، اس درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اسٹریٹیجک لحاظ سے بحر ہند میں استحکام کو برقرار رکھنا بھارت کے لیے اہم ہے، خاص طور پر جب کہ پاکستان اور چین جیسے ممالک اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارتی سیکیورٹی ادارے اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ منشیات کے نیٹ ورکس اور دہشت گردی کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا صرف مالدیپ ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کی سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور مالدیپ کے درمیان سیکیورٹی تعاون، باہمی اعتماد کی بنیاد پر، ایک مضبوط پیغام دے گا کہ جنوبی ایشیا اپنے اندرونی مسائل کو خود سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بیرونی تخریب کاری کو برداشت نہیں کرے گا۔










