ماضی اور عصر حاضر کے حالات بالکل مختلف ،زندگی کا ہر شعبہ من مانیوں پر گامزن ،شہری احساس کا فقدان

ماضی اور عصر حاضر کے حالات بالکل مختلف ،زندگی کا ہر شعبہ من مانیوں پر گامزن ،شہری احساس کا فقدان

خود غرض اور مفاد پرست افراد صرف اپنے حقیر مفادات کے خاطر نہتے عوام کے آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں

سرینگر / /عالمی سطح پر زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں تبدیلی رونماہوئی ہیں جہاں پہلے سے آجکل لوگوں کو آرام دہ زندگی میسر ہے وہیں انسان کچھ ایسی عادات اور طریقہ کار سے محروم ہوگیا ہے جو اس کے ضمیر کے ساتھ پیوست تھے۔بین الاقوامی سطح پر بات کرنے سے پہلے اگر ہم جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کی بات کر تے ہیں تو یہاں سب کچھ تبدیل ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔کھانے پینے ،وضع قطع اور احساس ذمہ داری و فرض شناسی میں ایسی تبدیلیا ں رونما ہوئی ہیں جس سے سارا کچھ بدل سا لگ رہا ہے ۔محکمہ جات قائم ہیں لیکن ان محکمہ جات کے کام سے بھی لوگ انجان ہوگئے ہیں کیونکہ ان کا کام زمینی سطح پر نہ ہونے کے برابر ہے اگر چہ کئی برسوں سے ورک کلچر کو بہتر بنانے کی تگدو بھی کی جارہی ہے ،کھانے پینے کی چیزیں ،گوشت وغیرہ کی چیکنگ ،صفائی ستھرائی ،ٹرانسپوڑٹ سروس میں ربط وضبط اور اسپتالوں و دیگر دفاتر میں متعلقین کے ساتھ رویہ میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں کہ حالات دیکھ ہوش مند انسان کے ہوش اُڑ جاتے ہیں۔کشمیر پریس سروس نے ماضی اور موجودہ دور کی تبدیلیوں کے حوالے سے چند حساس اور بزرگ شخصیات سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں گوشت معیار ہوا کرتا تھا لیکن آج کے دور میں جو گوشت ہمارے لئے بازاروں میں دستیاب ہوتا ہے اس کا نہ کوئی معیار ہوتا ہے اور نہ ہی قیمتیں مقرر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں شہر سرینگر میں بالخصوص مخصوص ذبح خانے ہوا کرتے تھے اور ان ذبح خانوں کے ساتھ ایک وارڈ ن یا سینٹری انسپکٹر کا معاون منسلک ہوتا تھا اور جب جانور ذبح کیا جاتا تھا تو مذکورہ آفیسر بروقت اپنے اختیارات کو بروئے کار لاکر جانور کے گوشت کو چک کرتے تھے اور دیکھا جاتا تھا کہ گوشت کا معیار کیسا ہے ؟ جب گوشت معیاری ہوتا تھاتو اس جانور کی رانوں کی دونوں سمت مہر تصدیق ثبت کی جاتی تھی اور قصاب جانور کے مہرشدہ حصے کے گوشت کو آخر پرفروخت کرتا تھا کیونکہ اس کو یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کو چیکنگ آفیسر اس کے دکان سے گذر کر اس گو شت کو غیر معیاری قرار دے گا ۔اسطرح صاف اور معیاری گوشت کی بازاروں خرویدوفروخت ہورہی تھی لیکن آج ہمارے بازاروں میں غیر معیاری گوشت مہنگے داموں پر دستیاب ہے اور گوشت کے معیار کو پرکھنے کیلئے کو انتظام نہیں ہے بلکہ قصابوں اور کوٹھکداروں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کے دو ر میں واش اور باتھ جو سینٹری سے لیس ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہر چوراہے ،گلی کوچوں اور بازاروں میںگندگی کے ایسے ڈھیر ہوتے ہیں اور نالیوں میں ایسی گندگی ہوتی ہے کہ اس سے پھیلی بدبو سے انسانوں کا جینا مشکل بن گیا ہے جبکہ ماضی میں سرینگر میں بھی بیت الخلائوں کا پاکخانہ کی نکاسی نالیوں میں ہورہی تھی لیکن اس وقت سرینگر میونسپل کمیٹی کے اہلکار ان نالیوں کو صاف کرنے کیلئے 24*7سرگرم رہتے تھے جبکہ کھیتی باڑی کرنے والے کسان بھی بطور کھاد استعمال کرنے کیلئے اس گند وغلاظت کو جمع کرتے ہوئے نالیوں کی صفائی ممکن بناتے تھے لیکن آج کل اتنی سینٹری ہونے کے باوجود بھی ہر سو گندگی سے بدبو پھیلی ہوئی ہے جس سے ایک تو ماحول آلودہ ہوچکا ہے اور دسرا یہ کہ اس سے بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں اور میونسپل کے اہلکار کہیں ڈرنیج صاف کرتے ہوئے دکھائی نہیں دئے جاتے ہیں ۔جبکہ عوام بھی Civic senseکھوچکا ہے جس کے نتیجے میں ہمارا ماحول آلودگی میں لت پت ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹرانسپورٹ محدود تھا لیکن اس دور میں بس سروس میں واضح ڈسپلن ہوتا تھایعنی جگہ جگہ پر ٹکٹ چکر ہوا کرتا تھا جو بس میں سوار مسافروں سے ٹکٹ چک کرتا تھا جس سے مسافروں کو بھی آسانی ہوتی تھی اور ربطہ وضبط بھی برقرار رہتا تھا ۔لیکن آج کے دور میں ٹرانسپورٹ کے دفاتر ضلع سطح پر ہی نہیں بلکہ تحصیل سطح پر بھی قائم ہیں لیکن بسوں ،منی بسوں ،سومو ،تویرا ،زائلو وغیرہ گاڑیوں کی سروس میں جگہ جگہ پر بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں آئے روز دلدوز حادثات پیش آتے رہتے ہیں اور آج کے دو ر میں ٹرانسپورٹ کی ستم رسیدی سے لوگ تنگ آچکے ہیں لیکن انتظامیہ متعلقین کو جوابدہ بنانے سے قاصر ہے اگر چہ گاڑیوں کا چالان کیا جاتا ہے اوران سے جرمانہ وصولا جاتا ہے لیکن اس سے سدھار آنے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ہے بلکہ اگر ماضی کی طرح ٹکٹ چکر س کو تعینات کیا جائے اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیوروں کو دیگر افراد کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ تب ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری ممکن ہے ۔اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں محدود سہولیات کے باوجود ربط وضبط کو اگر آج کے تیز رفتار دور میں دہرایا جائے اور اسی طرح حالات کا جائزہ لیا جائے تو عین ممکن ہے کہ لوگ ڈسپلن کے ساتھ آرام دہ زندگی بسر کرنے میں کامیاب ہونگے ۔