ماحولیاتی تحفظ ہم سب کی اِجتماعی ذمہ داری ہے ۔ قانون ساز اسمبلی کی ماحولیاتی کمیٹی

ماحولیاتی تحفظ ہم سب کی اِجتماعی ذمہ داری ہے ۔ قانون ساز اسمبلی کی ماحولیاتی کمیٹی

سری نگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ماحولیاتی کمیٹی نے آج ماحولیاتی انحطاط پر گہری تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لئے مربوط اور اِجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔میٹنگ کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین محمد یوسف تاریگامی نے کی اور اِس میں اراکینِ اسمبلی پیرزادہ محمد سعید، یودھویر سیٹھی، چودھری ظفر علی کھٹانہ، پیرزادہ فیروز احمد، مشتاق احمد گورو، اِرشاد رسول کار اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔چیئرمین’’گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز( جی سی سی )‘‘ خورشید احمدگنائی کی قیادت میں ایک وفد نے بھی میٹنگ میں شرکت کی اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اَپنی تجاویز اور آرأ پیش کیں۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے ایسے شعبہ جات کی نشاندہی ضروری ہے جہاں ہم اِجتماعی طور پر مداخلت کر کے بہتری لا سکتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ماحول لوگوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ہمیں ماحولیات کے تحفظ کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اس ایوان کی طرف سے دی گئی ذمہ داری سے انصاف ہو سکے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا،’’ماحولیاتی تحفظ ہمارے حال اور آنے والی نسلوں کا سوال ہے اور ہمیں اس حوالے سے مل کر کام کرنا ہو گا۔ماحولیاتی صحت ہماری بقا ہے اور اگر اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو اس حقیقت سے انکار تباہ کن ثابت ہوگا۔‘‘محمد یوسف تاریگامی نے کہا، ’’محدود وسائل کے باوجود ہمیں اپنی ذمہ داری نبھانی ہے اور فطری وسائل کے تحفظ کے لئے سنجیدگی سے آگے آنا ہو گا۔‘‘میٹنگ میں اراکینِ کمیٹی نے درختوں کی لاپرواہی سے کٹائی کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قدرت کے تمام عناصر ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں اور ان میں مداخلت انسان کے وجود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔خورشید احمدگنائی اور ان کے ہمراہ وفد کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے’’ کلائمیٹ ایکشن پلان‘‘کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اُنہوں نے بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد کے باعث فضائی آلودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔میٹنگ میں یہ نکتہ بھی اُٹھایا گیا کہ جموں و کشمیر میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے پر عملدرآمد سے قبل ’’ماحولیاتی اثرات کا جائزہ‘‘لازمی قرار دیا جائے۔ اِس کے علاوہ زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لئے تیزی سے تبدیل کئے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اراکین نے کہا کہ ایک بار زرعی زمین ضائع ہو جائے تو اسے واپس حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔اُنہوں نے آبی ذخائر میں تجاوزات اور ملبہ ڈالنے کے مسائل کو بھی اُجاگر کیا اور کہا کہ ان پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ لوگوںمیں ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بیداری پیدا کی جائے کیوں کہ انسان کی بقأ کا دار و مدار فطرت کے توازن پر ہے۔ کمیونٹی پر مبنی اقدامات سے ہی قدرتی وسائل کے زوال کو روکا جا سکتا ہے۔