Mehbooba Mufti

ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی رجسٹریشن منسوخ ہونا جموں وکشمیر کے مفاد میں نہیں

داخلے کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے والے جموں وکشمیر کے امن ، ترقی اورخوشحالی کے خلاف ہیں /محبوبہ مفتی

سرینگر/اے پی آئی// مذہب کی بنیاد پر تعلیم کو چلانے اور ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی رجسٹریشن کی منسوخی کو افسوسناک ، لمحہ فکریہ قرر دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے وزیر اعلیٰ کے رول کو منفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں میڈیکل کالج کی رجسٹریشن کی منسوخی کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے تھا۔ جموں وکشمیر کے موجودہ حالات کو دو قومی نظریہ کے منافی قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر میں پکڑ دھکڑ ، چھاپوں ، تلاشی کارروائیوں کا لامنتاعی سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جو کسی بھی لحاظ سے سود مند نہیں ہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کی کارروائی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر تعلیم کو چلانے والے جموںوکشمیر کے امن ، ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں۔ انہوںنے کہا کہ نیٹ پاس کر کے جن طلاب کو ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں داخلہ دیا گیا تھا کیا وہ جموں وکشمیر کے شہری نہیں ہیں اور ان کے داخلے کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کرنا پاکستانی کے بانی قائد اعظم علی محمد جناح کے دو قومی نظریہ کی تصدیق تو نہیں ، جب جموں وکشمیر کے عوام نے دو قومی نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کیا ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں میں مسلم طلبہ کے داخلے کے خلاف ایجی ٹیشن کیا ملک کے مختلف ریاستوں میں پھیل نہیں سکتی اور وادی سے تعلق رکھنے والے طلبہ ، مزدوروں اور تاجروں کے خلاف کارروائیاں عمل میں نہیں لائی جاسکتی ہیں۔ میڈیکل کالج کی رجسٹریشن منسوخ ہونے سے پہلے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے بیان کہ میڈیکل کالج کو بند ہونا چاہیے کے بیان پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کیا یہ انڈسٹینڈنگ نہیں ۔ ان کے بیان کے ایک دن بعد میڈیکل کالج کی رجسٹریشن منسوخ ہونا اس بات کی عکاسی ہے کہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ نے میڈیکل کالج کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کے خلاف اپنے قوت ارادی نہیں دکھائی ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے مختلف ایجنسیوں کی جانب سے چھاپوں ، تلاشی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوسکتے ۔ وادی کشمیر کے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی جو کارروائیاں پہلے سے شروع کی گئی ہیں اب ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں بھی اس طرح کی کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ انہوںنے کلکتہ میں ترنمول کانگریس کی آئی ٹی سیل پر ای ڈی کے چھاپے کو قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست نظریات کا اختلاف ہے ، ہر ایک سیاسی پارٹی کو جمہوریت میں اپنے خیالات اظہار کرنے ، اقتدار حاصل کرنے کا پورا پورا حق ہے ، تاہم حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان تصادم آرائیاں اور حزب اقتدار کی جانب سے حزب اختلاف کو دبانا کسی بھی صورت میں جمہوری مزاج کے موافق نہیں ہے ۔