لیفٹیننٹ گورنر نے پروفیسر اشوک کول کی کتاب ’ کشمیر۔نیٹوٹی ریگینڈ‘کی رسم رونمائی اَنجام دی

یہ کتاب کشمیری پنڈتوں کے انخلا پر روشنی ڈالتی ہے اور اُن تاریک دنوں کی دہشت اور آبا و اجداد کی جڑوں سے جدا ہونے کے مستقل نقصان کو بیان کرتی ہے

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جمعرات کو کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی مکمل عزت اور تحفظ کے ساتھ واپسی وزیر اعظم نریندر مودی جی کا عزم ہے ۔ اُنہوں نے کہا، ’’جموںوکشمیر میں 2019 سے تبدیلی کا عمل جاری ہے ۔ یونین ٹیریٹری کے لوگوں کے خوابوں اور تقدیرکو تباہ کرنے کے دشمنانہ منصوبے کو مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا گیا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’انتھک کوششوں کے ذریعے اس زمین کی قدیم شان دوبارہ بحال کی گئی ہے اور ترقی کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ بہت جلدیہ زمین دہشت گردی کے عذاب سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر پروفیسر اشوک کول کی تصنیف کردہ کتاب ’’ کشمیر ۔ نیٹیویٹی ریگینڈ ‘‘ کی رسم رونمائی کے موقعہ پر خطاب کر رہے تھے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’ کشمیر نیٹیویٹی۔ ریگینڈ‘‘ کشمیری پنڈتوں کی مائیگریشن کا جائیزہ لیتی ہے اور ان تاریک دنوں کی دہشت اور ان کے آبائی جڑوں سے جْدائی کے دیرپا اثرات کو بیان کرتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پروفیسر کول کی یہ کتاب محض ایک ادبی کوشش نہیں بلکہ ایک قابل تحسین کوشش ہے جس نے وہ خاموشی توڑ دی ہے جو دہائیوں سے ہماری اِجتماعی شعور پر چھائی ہوئی تھی۔اُنہوں نے کہا ،’’میں کشمیری پندت کمیونٹی کے عزم و حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہر بے گھر کنبے کے اندر کشمیری روح کی ایک زندہ جھلک موجود تھی۔ جدوجہد اور مشکلات کے باوجود انہوں نے فلسفہ، روحانیت، ثقافت، زبان اور روایات کو محفوظ رکھا۔ درد و الم میں بھی انہوں نے ممکنات دریافت کئے اور کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھوا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اُجاگر کیا کہ 2021 میں کشمیری مائیگرنٹ ویب پورٹل شروع کیا گیا تاکہ کشمیری پندت کمیونٹی کے گھروں اور زمینوں کو واپس دِلایا جا سکے جو دوسروں نے قبضہ کر لی تھیں۔انہوں نے کہا ،’’ میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کے سب سے بڑے غموں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بن جائے ۔ یہی وہ حقیقت تھی جو جموں و کشمیر میں پیش آئی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’1989-90 میں دہشت گردوں کی طرف سے کشمیری پنڈتوں کے قتل عام کا دُکھ اتنا گہرا ہے کہ وقت کا مرہم بھی اسے نہیں بھلا سکا۔ راتوں رات گھر چھوڑنے کی اذیت ، اپنی جڑوں سے اکھڑ جانے کا کرب ، آج بھی بے گھر خاندانوں کی رگوں میں کانٹوں کی طرح چُبھتا ہے ۔ ‘‘اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا نیٹ ورک سچائی کو دفن کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن ہم کبھی ان دہشت گردوں اور ان کے حمایتی نیٹ ورکس کو نہیں بھولیں گے اور نہ ہی معاف کریں گے جنہوں نے دہشت پھیلائی اور نسلوں کی روحوں پر وار کیا ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’نوجوان نسل کو کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کے حمایتی دہشت گردوں نے ہزاروں معصوم کشمیری مسلمانوں کا بھی خون بہایاہے۔بہت سے واقعات اتنے دلخراش ہیں کہ الفاظ ان کی بیان میں ہچکچاتے ہیں۔ گزشتہ برس سے ان کنبوں کو انصاف ملنا شروع ہوا ہے اور ان کی روز گار کی ضروریات سمیت دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ ‘‘ اُنہوں نے کہا کہ اگست 2019 میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے نے آرٹیکل 370 کو ختم کیا اور جموں و کشمیر کو مکمل طور پر ہندوستان میں ضم کیا ، اس دن نے کشمیری پنڈت کمیونٹی کی نوجوانوں میں یہ یقین پیدا کیا کہ وہ بغیر خوف کے اپنی جڑیں دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’پروفیسر کول کی کتاب کشمیری پندت کمیونٹی کے حوصلے کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ تعمیر نو کا دور ہے۔ اپنے الفاظ کے ذریعے پروفیسر کول دنیا کو بتاتے ہیں کہ کشمیری پندت کمیونٹی جموں و کشمیر کی کہانی کے بالکل مرکز میں ہے۔‘‘رسم رونمائی کی تقریب میںوائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسرامیش رائے،ریڈرز پریس کے پبلیشر راجیو جہا،ڈین ریسر چ سٹیڈیز پروفیسر نیلو روہمترا،رجسٹرا جموں یونیورسٹی ڈاکٹر نیرج شرما، معروف ادبی شخصیات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور طلبأنے شرکت کی۔اِس موقعہ پر صوبائی کمشنر جموں،آئی جی پی جموں، ضلع ترقیاتی کمشنر جموںاور دیگر سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔