لیفٹیننٹ گورنر نے سینٹر فار انوویشنز ان پبلک سسٹمز کے فاتحین کو ایوارڈ سے نوازا

لیفٹیننٹ گورنر نے سینٹر فار انوویشنز ان پبلک سسٹمز کے فاتحین کو ایوارڈ سے نوازا

وکست جموں و کشمیر کیلئے ہمیں بہترین کارکردگی کی پرورش کرنی چاہئیے اور گورننس کے اندر جدت کی ثقافت کو فروغ دینا چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر

سرینگر //لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے سرینگر میں ایک تقریب میں سینٹر فار انوویشنز ان پبلک سسٹمز ( سی آئی پی ایس ) کے فاتحین کو ایوارڈ سے نوازا۔ اپنے خطاب میں لفٹینٹ گورنر نے معزز ایوارڈ کے تمام وصول کنندگان کو اپنی دل کی مبارکباد پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی پیز ایوارڈز تیزی سے معاشرتی اور معاشی پیش رفت کو فروغ دینے اور دوسروں کو تبدیلی کے ایجنٹ بننے کی ترغیب دینے کیلئے عوامی نظاموں میں تبدیلی کے اقدامات کو تسلیم اور مناتے ہیں انہوں نے ان تمام ایوارڈز حاصل کرنے والوں کی ہمت اور لگن کی تعریف کی جس کے ساتھ انہوں نے صحت ، تعلیم ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، دیہی ترقی جیسے شعبوں میں قدم رکھا ہے اور ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لائی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ سرکاری ملازمین ، انجینئرز ، ڈاکٹر ، سائینسدان ، ٹیکنوکریٹس انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ان کی غیر جانبداری ، دیانتداری ، کارکردگی اور نڈر ہونا ہمارے سب سے قیمتی اثاثے ہیں ۔ مجھے فخر ہے کہ ایک ٹیم کی حیثیت سے انہوں نے لوگوں کی خدمت اور قوم کی تعمیر میں تعاون کرنے کیلئے کام کیا ہے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے روشنی ڈالی کہ معزز وزیر اعظم شری نریندر مودی کی قیادت نے ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے جس کی وجہ سے جدید حکمرانی کے اقدامات کا باعث بنے اور حکومت کو لوگوں کی ضروریات کیلئے زیادہ حساس بنا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معزز وزیر اعظم کے ’’ کم سے کم حکومت ، زیادہ سے زیادہ گورننس ‘‘ کے منتر نے شہریوں کیلئے زندگی گذارنے میں آسانی کو بڑھایا ہے اور عوامی خدمات کی ہموار فراہمی کو یقینی بنایا ہے ، آج ہندوستان نہ صرف دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے بلکہ اس کا مستقبل بلا شبہ سب سے بڑی معیشتوں میں روشن ہے ۔ ملک بھر میں مستقل اور تیز رفتار معاشی ترقی کیلئے ساز گار ماحول پیدا کیا گیا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ پالیسی کی کارکردگی کو بہتر بنانے ، پیچیدہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور غیر متوقع مستقبل میں ہونے والی رکاوٹوں کو موثر طریقے سے حل کرنے میں کام کریں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی آواز سرکاری پالیسی کی روح ہونی چاہئیے اسی وجہ سے اب پالیسیوں کو دفاتر میں تیار نہیں کیا جا سکتا ۔ شہریوں کی تجاویز اور ضروریات کو شامل کرتے ہوئے پالیسی سازی کو زمین پر کیا جانا چاہئیے ۔ ایک فائل صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے اس میں ہزاروں لوگوں کی زندگی اور مستقبل شامل ہے ۔ کسی بھی عمل کی پیمائش یہ ہے کہ آیا اس سے عام شہریوں کی زندگی میں بہتری آتی ہے ۔ ہمیں ان دو اہم پہلوؤں پر خصوصی توجہ دینی چاہئیے اور گورننس سسٹم کو زیادہ ذمہ دار بنانا چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ آج مصنوعی ذہانت کے دور میں تبدیلی واحد مستقل ہے ہمیں ہر شعبے میں ترقی اور فلاح و بہبود کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے ۔ لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر میں شہری اور کاروباری خدمات میں تبدیلی پر بھی روشنی ڈالی ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجیز بہتر عوامی پالیسیاں ، فیصلہ سازی میں بہتری ، شہریوں کی بہتر مصروفیت ، عوامی خدمات کی تیز اور اعلیٰ معیار کی فراہمی کا باعث بنے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیورو کریٹس ، ٹیکنوکریٹس نے نئے ٹولز تیار کرنے ، پیچیدہ چیلنجوں کو حل کرنے کیلئے جدید اقدامات کرنے اور تکنیکی ایپلی کیشنز کے ذریعہ معاشرے میں بہتری اور تبدیلی کو آگے بڑھانے کیلئے جدید اقدامات کریں ۔
اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل کے پروگرام میں نمایاں بہتری لانے کیلئے اکشیا پترا فاؤنڈیشن ماڈل کو اپنانے پر زور دیا ۔ انہوں نے بیورو کریٹس اور ٹیکنو کریٹس پر زور دیا کہ وہ لیب سے زمین تک ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے زراعت کے شعبے میں توجہ مرکوز کریں ۔ انہوں نے کہا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے کسانوں کو درپیش چیلنجوں کو دور کرنے کیلئے ہمیں جدید اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت ہے ۔ اس تقریب میں چیف سیکرٹری ، ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج آف انڈیا ، ڈائریکٹر سینٹر فار انوویشن ان پبلک سسٹم ، سیکرٹری جی اے ڈی ، ڈائریکٹر جے اینڈ کے امپارڈ ، انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ عہدیدار موجود تھے ۔