لیفٹیننٹ گورنر نے کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ ،خطرات میں کمی اور کسان صنعتی روابط کو مضبوط بنانے کیلئے دیرپا زرعی طریقوں کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(ایس کے یو اے ایس ٹی) جموں کے نویں کانووکیشن تقریب سے خطاب کیا۔اُنہوں نے اَپنے خطاب میں تمام فارغ التحصیل طلبأ کو مُبارک باد دی اور یونیورسٹی کے 25 شاندار برس مکمل ہونے پر اِنتظامیہ، فیکلٹی اور عملے کو دلی تہنیت پیش کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے زرعی شعبے میںاختراع، پیداواری صلاحیت اور کارکردگی بڑھانے میں ناری شکتی کے اہم رول کو سراہا۔اُنہوں نے کہا کہ کلائمٹ سمارٹ فصلیں، کیڑوں کے مؤثر اِنتظام، باییوٹیک سلوشنز اورآرگنک فارمنگ جیسے شعبوں میں خواتین سائنسدانوں کی شرکت بے حد قیمتی ثابت ہوئی ہے۔‘‘اُنہوں نے خوشی کا اِظہار کرتے ہوئے کہا،’’زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں ترقی کی قیادت اب خواتین کر رہی ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ اور گریجویٹ سطح پر 8 گولڈ میڈلسٹ میں سے 7 ہماری بیٹیاں ہیں جبکہ پی ایچ ڈی اور پوسٹ گریجویٹ کی سطح پر دئیے گئے 35 میرٹ سرٹیفکیٹس میں سے 32 ہماری بیٹیوں کو ملے۔ یہ ناری شکتی کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مظہر ہے اور میں پُر اُمید ہوں کہ وہ دیرپا زراعت کے لئے اِختراع کی قیادت کریں گی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کریں گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کانووکیشن کی تقریب میںدیرپا زرعی طریقوں کے لئے ایک جدید اور اختراعی ٹیکنالوجی پر مبنی مضبوط نظام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، خطرات میں کمی، اور کسان و صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔اُنہوں نے کہا،’’ کسانوں کی فلاح و بہبود وزیر اعظم نریندر مودی کیااوّلین ترجیح ہے۔‘‘جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی)اور زراعت و اس سے منسلک شعبوں کی مسابقت بڑھانے والے منصوبے (جے کے سی آئی پی) کا کسانوں کی آمدنی پر مثبت اثر اب واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’جموں و کشمیر میں بیج سے بازار تک کے تمام مراحل میں مکمل تبدیلی ہمارا منتر رہا ہے۔ ’ لیب سے زمین تک‘ کے عزم کو عملی جامہ پہنایا گیا تاکہ چھوٹے اور پسماندہ کسان خود کفیل بن سکیں۔‘‘اُنہوںنے نوجوان سائنسدانوں اور ماہرین سے کہا کہ وہ سمارٹ فارمنگ پر توجہ مرکوز کریں۔ اُنہوں نے کہا،’’بیج کی پیداوار، پیسٹ مینجمنٹ ، فوڈ پروسسنگ اور زرعی مشینوں کے اِنقلاب نے نوجوانوں کے لئے مصنوعات کی ترقی اور معیار کی نگرانی جیسے شعبوں میں نئی راہیں ہموار کی ہیں۔‘‘اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنرنے ایک جدید ترین ایکس۔سیچو جین بینک کا اِفتتاح کیا۔ سکاسٹ جموں اس طرح کا بینک قائم کرنے والا ملک کا تیسرا ادارہ بن گیا ہے۔ یہ سہولیت بیج، پودوں کے ٹشو اور جانوروں کا جراثیمی مواد قدرتی ماحول سے باہر محفوظ رکھنے میں مدد دے گی اور افزائش نسل اوار تحقیقی پروگراموں کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے 200 بستروں پر مشتمل فارمرز ہوسٹل اور ایک نیا فیکلٹی بلڈنگ کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس میں مشترکہ تعلیمی سہولیات دستیاب ہوں گی۔تقریب کے دوران کل 446 ڈگریاں عطا کی گئیںجن میں 157 ماسٹرز، 46 ڈاکٹریٹ اور 243 انڈرگریجویٹ ڈگریاں شامل تھیں۔ 8 نمایاں طلبأ کو گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، وزیربرائے زراعت جاوید احمد ڈار، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، پرنسپل سیکرٹری برائے زراعت شیلندر کمار، وائس چانسلر سکاسٹ جموں ڈاکٹر بی این ترپاٹھی ، بورڈ آف مینجمنٹ اور یونیورسٹی کونسل کے اراکین، اساتذہ، طلبأ، ممبران اسمبلی اور مختلف یونیورسٹیوںکے وائس چانسلران بھی موجود تھے۔










