لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں یونین ٹیریٹریز کے سیاحتی سیکرٹریوں کی ’میٹ‘ سے خطاب کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں یونین ٹیریٹریز کے سیاحتی سیکرٹریوں کی ’میٹ‘ سے خطاب کیا

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر ایک ناقابلِ شکست قوت بن چکا ہے اور مسلسل ترقی کرتا رہے گا۔لیفٹیننٹ گورنر

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سری نگر میں منعقدہ یونین ٹیریٹریز کے سیاحتی سیکرٹریوں کی میٹنگ سے خطاب کیا۔ اِس موقعہ پر مرکزی وزیر برائے ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیکھاوت بھی موجود تھے۔لیفٹیننٹ گورنرنے اَپنے کلیدی خطاب میں جموں و کشمیر کی قابلِ ذکر ترقیاتی سفر اور اِس کے ایک پسندیدہ عالمی سیاحتی مقام کے طور پر اُبھرنے کے بارے میں بتایا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’یہ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف ایک مناسب جواب ہے اور جموں و کشمیر کی اَمن، ترقی اور خوشحالی کی طرف پیش قدمی کی علامت ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میںجموں و کشمیر ایک ناقابلِ شکست قوت ہے اور یہ مسلسل ترقی کرے گا۔‘‘اُنہوں نے گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے میں ہونے والی شاندار تبدیلیوں کو اُجاگر کیا۔منوج سِنہانے کہا،’’خدا نے واقعی جموں و کشمیر پر کرم فرمایا ہے۔ یہ سرزمین، برف پوش پہاڑوں، چمکتے جھیلوں، سیبوں سے لدے باغات، مندروں اور ہرے بھرے میدانوں سے سجی ہوئی ہے۔ یہ قدرتی خوبصورتی، روحانیت اور امن کا جیتا جاگتا منظر ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’ہم نے روایتی سیاحتی سرکٹوں کو مضبوط کیا ہے اور سیاحتی دائرے کو وسعت دی ہے۔ ہم نے اِس بات کویقینی بنایا ہے کہ سیاحت کے فوائد جموں و کشمیریوٹی کے ہر کونے تک پہنچیں اور لوگوں کی زِندگی کو بدل دیں۔ یہاں کے لوگ اور اُن کی مہمان نوازی جموں و کشمیر کو ایک دلکش سیاحتی مقام بناتی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جی20 ٹوراِزم ورکنگ گروپ میٹنگ جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے عالمی سطح پر ’’برینڈ جے اینڈ کے‘‘بنانے میں مدد دی۔ اِس کے بعد ہونے والے قومی اور بین الاقوامی ایونٹوں نے جموں و کشمیر کو لگزری، فلم، تفریح اور عالمی رابطوں کے مقام کے طور پر پیش کیا۔اُنہوںنے دیرپا سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اِنتظامیہ کے عزم کو دہرایا اور بتایا کہ حکومت نے جموں و کشمیر میں اُبھرتی ہوئی متبادل منزلوں کا سٹریٹجک پروموشن اینڈ ری ویمپنگ( ایس پی آر اِی اے ڈِی)کے تحت ایسے اَقدامات کئے ہیں جن سے معروف مقامات پر ماحولیاتی دباؤ کم کیا جائے اور کم معروف علاقوں کو فروغ دیا جائے۔منوج سِنہانے کہا،’’ہمارا مقصد ہے کہ 9 نئے سیاحتی مقامات کو قومی اور بین الاقوامی سیاحتی نقشے پر لایا جائے اور پہلے سال میں کم از کم 5 لاکھ لوگوں کو براہ راست روزگار فراہم کیا جائے۔ یہ مقامات اعلیٰ قدر کے سیاحوں کو اَپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ شری امرناتھ جی شرائین تک بزرگوں اور جسمانی طور خاص اَفراد کی سہولیت کے لئے ٹو۔فیز روپ وے کی تعمیر پر بھی غوروخوض کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیتے ہوئے کہا ،’’سیاحتی شعبہ صرف ایک پُراَمن اور محفوظ ماحول میں ہی ترقی کر سکتا ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خاتمے میں سیکورٹی فورسز کا اہم رول ہے لیکن معاشرے کا رول بھی کچھ کم نہیں ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے معاشرے سے سپورٹ حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’عام شہری اَب دہشت گردی کے خلاف ڈَٹ کر کھڑے ہیں۔ پاکستان کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج ایک خوش آئند قدم ہے جو وادی میں مستقل اَمن کے قیام کی علامت ہے۔ پورے جموں و کشمیر کو اُٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اِس خوبصورت یونین ٹیریٹری میں دہشت گردوں کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔‘‘اِس موقعہ پرمرکزی سیکرٹری برائے سیاحت وی وِدیاوتھی ،ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل سیاحت سُمن بِلا ، سینئر اِکنامک ایڈوائزر برائے سیاحت گیان بھوشن ،جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ داخلہ پروین کمار رائے ، سیاحتی سیکرٹریوں،مرکزی حکومت و یونین ٹیریٹریز کے اِنتظامیہ کے اَفسران ، پینلسٹ اور ماہرین موجود تھے۔