لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کلچر فیسٹول کا اِفتتاح کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کلچر فیسٹول کا اِفتتاح کیا

کہا، جموںوکشمیرکی ثقافت اور روحانی ورثہ روشن مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار اَدا کرے گا

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے منگل کے روز اِس بات پر زو ردیا کہ جموں و کشمیر کی ثقافت اور روحانی ورثہ سب کے لیے ایک روشن مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔اُنہوں نے کہا،’’جموں کی سرزمین روایات سے بھری ہوئی ہے۔ ڈوگری گیت زِندگی کے اَقدار کو بُننے ہیں، دستکاری تجربات کو سموئے ہوئے ہے اور فنون میں عقیدت بھری ہوئی ہے، یہ ہماری زندہ و جاوید میراثیں ہیں جو نئی زندگی کا احساس دلاتی ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر جموں میں شری کیلاکھ جیوتش اینڈ ویدک سنستھان ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ’’جموں کشمیر کلچرل فیسٹول‘‘ کی اِفتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اِس موقعہ پر اننت وبھوشیت جونہ پیٹھادھیشور آچاریہ مہامندلیشور پوجیہ پاد شری سوامی اودھیشانند گیری جی مہاراج نے بھی شرکت کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں کشمیر کلچرل فیسٹول کا مقصد شاندار ثقافتی ورثے کا تحفظ، لوک فنون، روحانی بنیادوں اور روایات کی تجدید عہد اور ہماری شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’مجھے یقین ہے کہ روایتی پرفارمنس رنگ اور نغمگی سے ماحول کو خوشگوار بنائیں گی، ثقافتی نمائشیں ہمارے بیش قیمت ورثے کو سب تک پہنچائیں گی اور کسان بیداری پروگرام اس خطے کی روح کو پروان چڑھانے والے ہاتھوں کو خراج تحسین پیش کریں گے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اُبھرتی ہوئی ہندوستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علم پر مبنی معیشت کو مضبوط بنائے اور اختراعات، ثقافتی اَقدار اور فلسفیانہ خیالات کو عالمی سطح پر فروغ دے۔اُنہوں نے کہا،’’اس اہم دور میں جب عالمی تنازعات معاشروں کو تقسیم کر رہے ہیں اور انسانیت امن کی تلاش میں ہے، ہندوستان دنیا کو نئی راہ دکھانے کے لئے مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ہم اس تہذیب کے وارث ہیں جس نے ہزاروں سال پہلے براعظموں میں علم، ثقافت اور روحانیت کے چراغ روشن کئے ۔ُُلیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دُنیا نئے خیالات کی منتظر ہے اور نوجوان تبدیلی کی سوچ کو جنم دینے والی روایت کے وارث ہیں۔اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیاکہ وہ نئے خیالات اور اِختراعات کو فروغ دیں اور ثقافتی ورثے کو معاشرے کی تبدیلی کے لئے مؤثر ذریعہ بنائیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں سے کہا،’’اس باہم مربوط دور میں بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط کریں اور دُنیا بھر میں تنازعات کے بجائے ہمدردی کو فروغ دیں۔‘‘اُنہوںنے کہا کہ فن اور ثقافت گہری بصیرت، مقصد اور ہنر فراہم کرتے ہیں جو قوم کی تعمیر کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ ہندوسان فن، روحانیت، فلسفہ اور اخلاقیات نسلوں کو جوڑنے والے پُل ہیں۔منوج سِنہا نے کہا،’’یہ جدید تاریخ کا مشکل ترین دور ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کی قیادت کر رہے ہیں اور ترقی اور فلاح و بہبود کے نئے معیارات قائم کر رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میںہندوستان کی تبدیلی غیر معمولی رہی ہے اور اس رفتار کو اجتماعی طور پر مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دہائیوں میں ہمیں نئی توانائی کو بروئے کار لانا چاہیے اور ملکی اور عامی صنعتوں کو نئی شکل دینے والی ٹیکنالوجیز اور نظام بنانے کا عزم کرنا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ ہندوستان نے بین الاقوامی سطح پر اَپنی قدیم عظمت اور اعتماد کو دوبارہ حاصل کیا ہے۔ ہندوستان اِنجینئرز، سائنسدان، صنعت کار اور اِختراع اَب عالمی سطح پر گفتگو کر رہے ہیں اور ان کی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کو دُنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ میں اسے ایک نشاۃ ثانیہ کے طور پر دیکھتا ہوں جو ہندوستان کی شاندار تاریخ کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔‘‘جموںو کشمیر کلچرل فیسٹول میں ثقافتی نمائش، روایتی لوک پرفارمنس، کسان میلہ اور مفت میڈیکل کیمپ سمیت مختلف سرگرمیاں پیش کی گئیں۔اِس موقعہ پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ثقافتی میلے قانون ساز اسمبلی کے اراکین شیام لال شرما اور دیویانی رانا، مہنت روہت شاستری، صدر شری کیلاکھ جیوتس اینڈ ویدک سنستھان ٹرسٹ مکل کانیتکر، ممتازشہریوں اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر رُکن شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈسریش کمار شرما،صوبائی کمشنر جموں رمیش کماراور دیگر سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔