لیفٹیننٹ گورنر نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کی 9 ویں ایگزیکٹو کونسل میٹنگ کی صدارت کی

لیفٹیننٹ گورنر نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کی 9 ویں ایگزیکٹو کونسل میٹنگ کی صدارت کی

آئندہ نسل کی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں اور یونیورسٹی میں سیکھنے کی جگہیں تخلیق کریں ۔ لفٹینٹ گورنر کی ایگزیکٹو کونسل کو ہدایت

جموں//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے لوک بھون میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی ( بی جی ایس بی یو ) راجوری کی 9 ویں ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں وائس چانسلر بی جی ایس بی یو ، وائس چانسلر جموں یونیورسٹی ، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی ، لفٹینٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ، ڈپٹی کمشنر راجوری اور رجسٹرار بی جی ایس بی یو ، سابق وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی جموں ، ڈین ( ریسرچ ) اور پروفیسر آف پیڈیاٹرکس ہیری ٹیج انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز وارانسی اور دیگر اراکین نے شرکت کی ۔ ایگزیکٹو کونسل نے تعلیمی اور انتظامی نوعیت کے متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا اور اجلاس میں پیش کئے گئے مختلف ایجنڈا پوائینٹس کو اصولی طور پر منظوری دی ۔ لفٹینٹ گورنر نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنے موجودہ نصاب کا جامع جائیزہ لے ، ایک اسٹریٹجک تبدیلی کا تصور کرے جو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کو سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر مقام دے ۔ لفٹینٹ گورنر نے ایگزیکٹو کونسل سے کہا کہ وہ کل کی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں اور یونیورسٹی میں اگلی نسل کیلئے سیکھنے کی جگہیں تخلیق کریں ۔ انہوں نے ہنر پر مبنی تعلیم اور ادارہ جاتی احتساب کیلئے نئی عزم کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ نصاب کی ترقی اور مصنوعی ذہانت ، مشین لرننگ اور ابھرتی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے پرکشش کورسز پر توجہ دیں جو طلبہ کی تبدیل ہوتی ضروریات اور کیرئیر کی خواہشات کے مطابق ہوں ۔ ٖلفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ ذہنوں کو سنوار کر ہم بھارت کے روشن مستقبل کو سنوار سکتے ہیں ۔ قوم کا مستقبل یونیورسٹی کیمپس سے شروع ہوتا ہے ، اس لئے ہمیں روشن کل کیلئے تعلیم کو نئے سرے سے تصور کرنا چاہئیے ، ایسا نصاب تیار کرنا چاہئیے جو جدت اور جدید تحقیق کی ترغیب دے ۔ ‘‘
لفٹینٹ گورنر نے زور دیا کہ یونیورسٹی کو قبائلی علاقوں کے مقامی مسائل کی نشاندہی کرنی چاہئیے اور ان کیلئے جدت پسندانہ حل فراہم کرنے چاہئیں اور قبائلی طلبہ کیلئے مواقع یقینی بنانے چاہئیں ۔ انہوں نے طلبہ کی داخلہ کی تعداد بڑھانے اور مکمل ای ۔ آفس سسٹم کے نفاذ کے ذریعے آپریشنز کو جدید بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کانووکیشن منعقد کرنے اور یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس ہر چھ ماہ بعد منعقد کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔ میٹنگ میں داخلہ جات ، بھرتی ، نئے تعلیمی پروگراموں کا تعارف ، فیکلٹی کی کیرئیر ایڈوانسمنٹ ، انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ ( بشمول تمام نرسنگ کالجز ) اور یونیورسٹی کے مجموعی کام کاج میں مزید معیاری بہتری لانے کیلئے دیگر اصلاحات جیسے اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وائس چانسلر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی نے ایگزیکٹو کونسل کے سامنے مختلف ایجنڈا آئٹمز پیش کئے جن کی منظوری اور توثیق طلب کی گئی ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں کی ای ۔ فاؤنڈیشن سنگ بنیاد رکھی ، جن میں نرسنگ طلبہ کیلئے گرلز ہوسٹل ( جی + 1 ) ، نیا مرکزی گیٹ اور انڈور گیمز کمپلیکس پی ایم اوشا( پردھان منتری اُچتر سکھشا ابھیان ) اور1 میگاواٹ کا روف ٹاپ سولر پاور پلانٹ شامل ہیں ۔