سماجی احتساب، ثقافتی شناخت اور عوامی صحافت کی صدیوں پرانی روایت زوال کے خطرے سے دوچار
سرینگر// یو این ایس// کبھی کشمیر کی گلیوں اور دیہات میں ایک مخصوص صدا دروازوں پر دستک دیتی تھی—‘‘لَڈی شاہ، لَڈی شاہ دریکن پیو…’’۔ یہ محض ایک گیت کی ابتدا نہیں بلکہ ایک ایسے ثقافتی ادارے کا اعلان تھا جو صدیوں تک وادی میں سماجی، سیاسی اور معاشی شعور کی نمائندگی کرتا رہا۔ لَڈی شاہ، اٹھارہویں صدی سے جاری ایک روایتی، طنزیہ اور موسیقانہ داستان گوئی کی صنف ہے جس نے عوامی جذبات کو آواز دی اور حکمرانوں کے احتساب کا فریضہ بھی انجام دیا۔یو این ایس کے مطابق لَڈی شاہ کو اس کی مخصوص پیشکش کے باعث منفرد مقام حاصل تھا۔ ایک تنہا فنکار، کشمیری پھیرن، سفید پاجامہ اور دستار میں ملبوس، ہاتھ میں دھوکرنامی لوہے کی سلاخ تھامے، جس پر چھوٹے چھوٹے چھلے لگے ہوتے تھے، گاوں گاوں گھومتا۔ وہ انہی چھلوں کو بجا کر ایک مخصوص لے پیدا کرتا اور اسی آہنگ میں موقع پر اشعار ترتیب دیتا۔ طنز اس کی روح تھی، مگر لہجہ ایسا کہ سننے والا ہنس بھی پڑے اور سوچنے پر بھی مجبور ہو جائے۔تاریخی حوالوں کے مطابق لَڈی شاہ نے مختلف ادوار میں معاشرتی اور سیاسی واقعات کو نظم میں ڈھالا۔ جب پہلی بار ہوائی جہاز نے کشمیر کی فضا میں پرواز کی تو اس پر بھی لَڈی شاہ نے طنزیہ اشعار کہے۔ 1947 میں نمک کی قلت، سستی سرکاری چاول کی تقسیم، سیاسی اتھل پتھل، حتیٰ کہ حکمرانوں کے فیصلوں تک—ہر واقعہ کو اسی انداز میں عوام تک پہنچایا گیا۔ اس اعتبار سے لَڈی شاہ کو وادی کا ‘‘گھومتا پھرتا خبر رساں’’ بھی کہا جاتا تھا۔ادبی ماہرین کے مطابق لَڈی شاہ کی جڑیں باند پَتھر جیسی لوک تھیٹر روایت سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب باند پَتھر کے فنکار ملبوسات تبدیل کرنے کے لیے وقفہ لیتے، تو لَڈی شاہ اسی وقفے کو طنزیہ شاعری سے بھر دیتا۔ اسے چاول یا دھان بطور معاوضہ دیا جاتا تھا، جو اس بات کی علامت تھا کہ معاشرہ اپنے فنکار کو عزت اور معاش دونوں فراہم کرتا تھا۔ثقافتی اور اخلاقی پہلو سے لَڈی شاہ ایک ائینہ تھا—وہ معاشرتی برائیوں، ناانصافیوں اور حکمرانوں کی کوتاہیوں پر تنقید کرتا، مگر اس کی نیت اصلاح اور بیداری ہوتی۔ رمضان کے مہینے میں روزہ داروں کی ستائش اور غفلت برتنے والوں پر طنز، یا قدرتی افات پر عوامی ردعمل—ہر موضوع اس کی شاعری میں جگہ پاتا۔یو این ایس کے مطابق تاہم جدید دور میں یہ روایت زوال کا شکار ہے۔ ٹیلی ویڑن، موبائل اسکرینز اور سوشل میڈیا کے سیلاب میں یہ صدیوں پرانی آواز مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ نئی نسل کشمیری زبان میں موجود اس طنزیہ ادب سے کم واقف ہے، اور اس صنف کی مکمل ترجمانی کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دستاویز بندی، تعلیمی نصاب میں شمولیت اور ثقافتی میلوں میں باقاعدہ پیشکش جیسے اقدامات نہ کیے گئے تو لَڈی شاہ صرف کتابوں اور یادوں تک محدود ہو جائے گا۔اقتصادی پہلو سے بھی یہ روایت اہم تھی۔ دیہی معیشت میں فنکار اور کمیونٹی کے درمیان ایک باہمی تعلق موجود تھا، جہاں فن کے بدلے اناج دیا جاتا تھا۔ آج جب ثقافتی صنعتیں روزگار کا ذریعہ بن سکتی ہیں، لَڈی شاہ کی بحالی نوجوانوں کے لیے تخلیقی مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ لَڈی شاہ صرف ایک فن نہیں بلکہ کشمیر کی اجتماعی یادداشت ہے—وہ تاریخ جو کتابوں سے پہلے زبانوں پر زندہ تھی۔ اس کی بحالی دراصل ثقافتی شناخت، اخلاقی جرات اور سماجی شعور کی بحالی ہے۔اگر وادی اپنی روایتی ا?وازوں کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے تو لَڈی شاہ کو دوبارہ گلیوں میں گونجنا ہوگا—تاکہ طنز میں لپٹی سچائی ایک بار پھر معاشرے کو ا?ئینہ دکھا سکے۔










