رمضان المبارک کے مقدس متبرک ایام کے دوران گراں بازاری کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے سرکارکے دعوں کی نفی کردی اور عوامی حلقوںکے مطابق سرکاری سطح پرکئے جانے والے اعلانات زمینی سطح پرعملانے میں کل پرزے اپنی خدمات انجام دینے میں سنجیدہ نہیں ۔رمضان المبارک کے متبرک ایام شروع ہونے سے پہلے سرکار نے عوام کوبہترسہولیات فراہم کرنے کایقین دلایااور وزیراعلیٰ کی سربراہی میںاعلٰی سطحی میٹنگ کے دوران تمام اداروں پی ڈی ڈی پی ایچ ای صحت امور صارفین عوامی تقسیم کاری اور دوسرے ضرری خدمات انجام دینے والے اداروںکوہدایت کی کہ ان متبرک ایام کے دوران عوام کو کسی مشکل سے گزرناناپڑے اس سلسلے میں ہرممکن اقداما ت اٹھائے جائیں۔ سرکار کے احکامات اور رمضان المبارک کے ایام شروع ہونے کے ساتھ ہی وادی کشمیرکے اطراف واکناف میں جہاں بر فباری بارش نے زندگی کو متاثر کردیا وہی دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوںکوبنیادی سہولیاتکی عدم دستیابی نے پوری طرح سے اپنی لپیٹ میںلے لیاکپوارہ، بانڈی پورہ، بارہمولہ ،گاندربل کے پہاڑی علاقوں میں لوگ بجلی سے محروم طبعی سہولیات کے فقدان نے مریضوں کی حالت کومزیدنازک بنادیا، جبکہ متبرک ایام کے دوران لوگوں کو ضروریات حاصل کرنے میں سخت ترین مشکلوںکاسامناکرناپڑ رہاہے ۔کرناہ ،جمہ گنڈ ،مژھل، کپوارہ کے دوسرے پہاڑی علاقوں کے علاوہ بانڈی پورہ ،رفیع آباد، گاندربل کے علاقوں میں لوگ پچھلے ایک ہفتے سے بجلی سے محروم ہیں اور ان علاقوں میں لوگوںکوپینے کے پانی کی قلت سے گزرنا پڑ رہاہے بر فباری کے بعد لوگوں کو طبعی سہولیات دستیاب نہیں ہے اور عوام کو مریضوں کاعلاج کرانے کے لئے ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلنکوںکارُخ کرناپڑ رہاہے ۔برف باری کے بعد مہنگائی سرپٹ گھوڑے کی طرف دوڑ رہی ہے ۔انفورسمنٹ ونگ صرف شہروں قصبوں تک محدود ہوکررہ گئے ہے دور دراز خاص کردیہی علاقوں میںنہ صرف لوگوںکوغیرمیعاری بلکہ زائدالمیعاد اشیاء بھی فروخت ہورہی ہے او رلوگوں کی زندگیوںکے ساتھ کھلے عام کھلواڑ کیاجارہاہے ۔صورتحال انتہائی دھماکہ خیزہے او رسرکارنے جولوگوںکویقین دلایاتھاکہ رمضان المبارک کے متبرک ایام میںبازاروں کی چکنگ قیمتوں کواعتدال پر رکھنے کے اقداما ت اٹھائے جائے گے۔ بنیادی سہولیا ت فراہم کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑ دی جائے گی۔ عوامی حلقوںکامانناہے زمینی سطح پرلوگ طرح طرح کے مشکلات سے دو چا رہیں عوام کوراحت پہنچانے کی کوئی کارروائی عمل میںنہیں لائی گئی ہے۔ سرکاری اداروں میں ملازمین مفت کی روٹیاں توڑنے کے عادی ہوچکے ہیں او روہ ان متبرک ایام میں بھی عوام سے دور پڑے ہوئے ہیں۔










