dr naveed

لوگ گائڈ لائن پرعمل کرینگے تو لاک ڈاون کی ضرورت ہی نہیں ہوگی :ڈاکٹرنوید نذیر

سرینگر//لاک ڈاون پرگائڈ لائن پرلوگ عمل کرینگے لاک ڈاون کی ضرورت نہ پڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے چسٹ ڈیزیز اسپتال کے سربراہ نے کہا کہ اومیکروں بیماری اگر چہ تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے تاہم اس وبائی بیماری میں مبتلاہونے والے افراد کے جانیں ضا ئع ہونے کے امکانات بہت کم ہوا کرتے ہے بہت کم لوگوں کویہ اپنی لپیٹ میں لے کر موت کی وادی تک پہنچا رہی ہے ۔لوگ غیرسنجیدگی کا مظاہراہ ناکرے جان سلامت ہے تو جہاں بھی ملے گا اور لوگوں کوچاہئے کہ وہ خود ڈاکٹر بننے کی کوشش ناکریں ۔اے پی آ ئی کے مطابق اومیکرون کروناوائرس وبائی بیماری کے تیور سخت ہونے پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے چست ڈیزیز اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر نویدنذیر نے کہا کہ اگرلوگ گائڈ لائن کواپنائے گئے اور اس پرمن وعن عمل کرنے کی کوشش کرینگے تو وادی کشمیر میں لاک ڈاون کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔انہوںنے کہا کہ غیرسنجیدگی اور لاپرواہی کی وجہ سے ہی بیماری کے تیور سخت ہوتے ہے اور لوگ بڑی تعداد میں کروناوائرس کی وبائی بیماری کے لپیٹ میں آ رہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ اومیکرون کی بیماری تیزی کے ساتھ پھیل بھی رہی ہے تاہم بہت کم لوگوں کے پھپڑوں کویہ نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ بیماری انسان کوایمنٹی بھی فراہم کرتی ہے اور اس بیماری کی لپیٹ میں آ نے والے افراد میں سے بہت کم کی موت واقع ہوتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد ایک اور روحجان پھیلتا جا رہاہے کہ لوگ خود ڈاکٹربن جاتے ہے اور کروناوائرس وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں کودیکھنے کے بعد لوگ ادویات استعمال کررہے ہیں جوجان کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ انہوںنے لوگوں سے تلقین کی کہ لو گ خود ڈاکٹرنہ بن جائے بلکہ جب بھی انہیں کسی بھی طرح کی بیماری کاسامناکرنا پڑے یاوہ بیماری میں مبتلاہوجائے ڈاکٹرسے مدد طلب کرے تا کہ بیمار کابہتر طریقے سے علاج کیاجائے ا سے مزیدکئی مشکلوں کاسامناناکرنا پڑے۔