editorial

لوگ بنیادی سہولیات سے محروم

گرمی کے ان شدید ایام میں محکمہ جل شکتی اور محکمہ پی ڈی ڈی نے اپنی چال پھر چلنا پھر سے شروع کردیا ہے اکثر وبیشتر علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی پر لوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرمیوں کے ان ایام میںبھی پی ڈی ڈی محکمہ برقی رو فراہم کرنے میں کنجوسی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔عوامی حلقوں نے الزام لگایا کہ پاش کالونیوں میں بجلی کی سپلائی مسلسل بہم رکھ کر پوری وادے کے لوگوں کو برقی رو فراہم کرنے کے جو دعوے کئے جارہے ہیں وہ ا فسوسناک ہیں۔گذشتہ کئی دنوں سے جہاں ایک طرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے لوگوں کا حال بے حال ہوتا جارہا ہے دوسری جانب محکمہ پی ڈی ڈی نے پھر سے بجلی کی کٹوتی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔وادی کے اکثر وبیشتر علاقوں میں برقی رو منقطع ہونے پر عوامی حلقوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سرکار دعویٰ کر رہی ہے کہ گرمیوں کے ان شدید ایام میں بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کوئی بھی دقیقہ فرد گزاشت نہیں کیا جائے گا ۔یہاں تک کہ سرکار نے اعلان کیا کہ برقی رو فراہم کرنے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی کو خصوصی ہدایات دئے گئے ہیں ۔عوامی حلقوں کے مطابق دن میں کئی بھی برقی رو دستیاب نہیں ہوتی ہے جبکہ بجلی کی عدم دستیابی سے لوگوں کو مصائب و مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق وادی کے لوگوں کو برقی رو فراہم کرنے کیلئے سنجیدگی کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو جھاڑے کے موسم میں وادی کے صارفین محکمہ پی ڈی دی سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔عوامی حلقوں نے لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ پی ڈی ڈی کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے یا تو سنجیدہ نوعیت کے قامات اٹھائے جائیں یا پھر محکمہ میں موجود ایسے رشوت خور اور بدعنوان ملازمین کو چلتا کیا جائے جن کی وجہ سے یہ محکمہ پوری طرح سے کھوکھلا ہوچکا ہے ۔ادھر پینے کے پانی کے قلت نے پوری وادی میں سنگین رخ اختیار کیا ہے ۔گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی نہ صرف ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہوگئی ہے بلکہ چشمے بھی سوکھ گئے ہیں جبکہ جل شکتی محکمہ کی جانب تعمیر کی گئی واٹر سپلائی اسکیمیں بیکار پڑی ہیں اور وادی کے 55فیصد علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔