لوک سبھا انتخابات :سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے 13مئی کو ووٹ ڈالیں جا رہے ہیں ،تمام تر انتظامات مکمل

لوک سبھا انتخابات :سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے 13مئی کو ووٹ ڈالیں جا رہے ہیں ،تمام تر انتظامات مکمل

17.4ووٹران میں سے 2 لاکھ پہلی بار ووٹ ڈالیں گے،18 اسمبلی حلقوں میں 2135 پولنگ اسٹیشن قائم

سرینگر // لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے 13مئی کو ووٹ ڈالیں جا رہے ہیں جس کیلئے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے ۔ ادھر سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے 17.4ووٹران میں سے 2 لاکھ پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے 18 اسمبلی حلقوں میں 2135 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں جبکہ 15 میں سے 12 بار نیشنل کانفرنس اس نشست کیلئے انتخابات میں جیت درج کرچکی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر کے پارلیمانی حلقہ جس میں جموں و کشمیر کے دیگر حلقوں کے مقابلے امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، 13 مئی کو ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو تیار ہے جب 17.4 لاکھ سے زیادہ لوگ پانچ میں ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ سرینگر سیٹ پر لوک سبھا انتخابات کے میدان میں کل 17,43,845ووٹر ان 24 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔مجموعی طور پر2لاکھ سے زیادہ پہلی بار ووٹ دینے والے ہیں، جو 18سے 20سال کی عمر کے گروپ میں ہیں اور 13 مئی 2024 کو پہلی بار اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ان ووٹران میں8,73,426 مرد اور 8,70,368 خواتین ہیں جبکہ 51 دیگر ان ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ 18 اسمبلی حلقوں میں 1323 مقامات پر قائم کئے گئے اور 2135 پولنگ اسٹیشنوں کے لئے انتظامات کو تقریباً حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اسمبلی حلقوں میں کنگن اور گاندربل، 19میں حضرت بل، 20 میںخانیار، 21 میں حبہ کدل، 22 میںلال چوک، 23میں چھانہ پورہ ،24میںزیڈی بل ، 25عیدگاہ ،26شالہٹینگ ،چرار شریف ،چاڈورہ،پانپور ،ترال، پلوامہ، راجپورہ اور شوپیان شامل ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گاندربل کے دو اسمبلی حلقوں میں 260 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں، سرینگر کے 8 اسمبلی حلقوں میں 929 پولنگ اسٹیشن، بڈگام کے 3 اسمبلی حلقوں میں 345، پلوامہ کے 4 اسمبلی حلقوں میں 479 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ اور شوپیاں کے ایک اسمبلی حلقے میں 122 پولنگ اسٹیشن ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سرینگر حلقہ نیشنل کانفرنس کا گڑھ رہا ہے کیونکہ پارٹی کے امیدوار 1947 سے اب تک 15 پارلیمانی انتخابات میں سے 12 بار یہ سیٹ حاصل کر چکے ہیں۔پارٹی کو اب تک صرف ایک بار 2014 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار طارق حمید قرہ نے اپنے حریف ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو شکست دی تھی تاہم،پارٹی نے 1996 کے لوک سبھا انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے تھے اور 1971 میں ایک آزاد امیدوار ایس اے شمیم کی حمایت بھی کی تھی۔ اس حلقے میں آنے والے انتخابات میں سخت مقابلے کی توقع ہے جبکہ نیشنل کانفرنس کے آغا سید روح اللہ مہدی، پی ڈی پی کے وحید الرحمان پارا اور اپنی پارٹی کے محمد اشرف میر سمیت نمایاں امیدوار اس سیٹ کیلئے میدان میں ہیں۔اسی دوران سرینگر پارلیمانی حلقہ کے ریٹرننگ آفیسر ڈاکٹر بلال محی الدین نے بتایا کہ انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ تمام پولنگ سٹیشنوں پر ویب کاسٹنگ اور مائیکرو آبزرور رکھے جائیں گے۔