ووٹروں اور سیاسی نمائندوں کی مکمل حفاظت پولیس کی اولین ترجیح رہے گی ۔ پولیس سربراہ
سرینگر//پولیس چیف آر آر سوائن نے سوموار کو کہا کہ جموں کشمیر پولیس یوٹی میں پارلیمانی انتخابات کو احسن طریقے سے منعقد کرانے کیلئے بالکل تیار ہے اور ووٹروں اور سیاسی نمائندوں کاتحفظ پولیس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ انتخابات کا عمل بغیر کسی دبائو اور خوف و ڈر کے مکمل ہوجائے ۔انہوں نے بتایا کہ منشیات اور دہشت گردی ایک دوسرے کے جڑے ہوئے معاملات ہیں اور اس میں پہلے ہمیں شک تھا لیکن اب یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ یہ ایک ہی کڑی کے دو رُخ ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) آر آر سوین نے پیر کو کہا کہ جب بھی لوک سبھا انتخابات کا اعلان کیا جائے گا پولس پرامن طریقے سے یقینی بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور پولیس فورس ووٹروں کو محفوظ اوپر امن ماحول فراہم کرے گی۔پلوامہ کے جنوبی ضلع میں روہمو میں پولیس چوکی کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لیے پولیس فورس پوری طرح تیار ہے۔ڈی جی پی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ہم جموں و کشمیر میں پرامن لوک سبھا انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔ انہوںنے بتایا کہ پولیس یوٹی میں پارلیمانی انتخابات کو احسن طریقے سے منعقد کرانے کیلئے بالکل تیار ہے اور ووٹروں اور سیاسی نمائندوں کاتحفظ پولیس کی اولین ترجیح رہے گی۔منشیات اور دہشت گردی کے درمیان روابط کے بارے میں ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے، ڈی جی پی نے کہا کہ پہلے انہیں شک تھا کہ آیا یہ دونوں واقعی جڑے ہوئے ہیںاور جب تحقیقات میں پیش رفت ہوئی، ٹھوس شواہد سامنے آئے کہ منشیات کی تجارت اور دہشت گردی نہ صرف گہرے جڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ ایک ہی کڑے میں بندھے ہوئے ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس تجارت کے پیچھے البدر، جیش محمد، لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہے۔جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نے کہا کہ کشمیر سے دہلی اور ملک کے دیگر حصوں کا سفر کرتے ہوئے منشیات کی 15 لاکھ روپے کی کھیپ کی مالیت ایک کروڑ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس اس تجارت کو روکنے اور کریک کرنے کا ایک مضبوط طریقہ کار ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے لیکن ہم کر رہے ہیں اور پولیس اس کے خاتمہ کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔










