لوک تنتر بنام بلڈوزر تنتر: کانگریس کا اقلیتی شعبہ لڑے گا مظلوموں کی لڑائی، عمران پرتاپ گڑھی کا اعلان

لوک تنتر بنام بلڈوزر تنتر: کانگریس کا اقلیتی شعبہ لڑے گا مظلوموں کی لڑائی، عمران پرتاپ گڑھی کا اعلان

نئی دہلی: ملک میں پیدا شدہ نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کے لئے کانگریس کے کارکنان تمام عوام کو متحد کریں، بلڈوزر کا استعال کرکے گھروں کا انہدام قطعی غیر قانونی اور ظلم ہے، جبر ظلم کے خلاف اگر ہم خاموش رہے تو یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار سینئر کانگریسی لیڈر خورشید عالم خاں نے کیا۔ وہ آج یہاں 24 اکبر روڈ پر کانگریس کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ’لوک تنتر بنام بلڈوزر تنتر ‘ سیمنار میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ ملک میں ایسے حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ جس طرح آزادی کی لڑائی میں سب نے مل کر انگریزوں کو شکست دی تھی اسی طرح ایک اور لڑائی ہمیں لڑنی ہوگی، تاکہ اس ملک کے غریبوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو، مذہبی شناخت پر پابندی نہ لگے، مندروں میں ہونے والی آرتی اور مسجد میں ہونے والی اذان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائی جائے۔سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت ایک عمدہ اور بہترین ملک ہے، یہاں صوفیوں کے مزاروں پر ہندوؤں کی اکثریت اپنی عقیدت کے پھول پیش کرنے جاتی ہے۔ انہوں نے کہا دوسروں کی خوشی میں اضافہ کرنے سے کوئی مذہب منع نہیں کرتا، میں مندر جاتا ہوں، لوگ سوال اٹھاتے ہیں کیا میں نے اسلام ترک کر دیا؟ افسوس اس طرح کے سوالات مسلمان ہی کرتے ہیں اور ایسے مسلمان کرتے ہیں جنہیں اسلامی رواداری اور وسعت قلبی کا کوئی علم نہیں ہے۔انہوں نے کہا اسلام کا مطلب ٹوپی، نماز، روزہ یا ایسی ہی چند چیزوں پر عمل کرنا نہیں ہے بلکہ اسلام کا مطلب دووسرے لوگوں کو خوش رکھنا اور ان کے برے وقت میں کام آنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ضرورت ہے، اگر مسلم پر ظلم ہو تو ہندو، عیسائی، جین سمیت ساری اقلیتوں اور فرقوں کو آواز بلند کرنا چاہئے۔ انہوں لبرل ازم کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نظریے کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری بیٹیاں راتوں کو گھومتی پھریں یا دوسری قوموں یا مذہب کے لوگوں سے شادیاں کریں بلکہ لبرل ازم کا مطلب اپنے دلوں کو دوسروں کے لئے کھولنا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہنا چاہئے۔سیمنار کی صدارت کرتے ہوئے پرشوتم اگروال نے کہا کہ بنا پیشگی اطلاع دیئے کسی کے گھر کو توڑنا قانون کے خلاف ہے لیکن افسوس ہے کہ آج غلط کو غلط کہنے والا طبقہ حکومت کا طرفدار بن چکا ہے اور غریب کا مکان ڈھاتے وقت بلڈوزر پر چڑھ کر سرکار کے مجرمانہ رویے کی تائید کرتا ہے۔ انہوں نے کانگریس کی گرتی ہوئی حالت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو کانگریس ہی ہرا رہی ہے۔ کانگریس کو اپنی غلطیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ کانگریس کو نہرو کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔ سارے کانگریسی ایک بار پھر ’ انڈیا وِنس فریڈم ‘ کا مطالعہ کریں۔سیمنار میں سینئر کانگریسی لیڈر اجے ماکن نے جہانگیر پوری کے حالات بیان کئے اور وہاں کس طرح ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا گیا اس پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے بلڈوزر کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مظلومین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض کانگریس اقلیتی شعبے کے چیئر مین عمران پرتاپ گڑھی نے انجام دئے۔ انہوں نے برجستہ اشعار سے نہ صرف عوام سے داد و تحسین حاصل کی بلکہ پروگرام کی غرض و غائیت کو بھی وسعت بخشی۔ انہوں نے کھرگون کے پچاسی گھروں کے انہدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اقلیتی شعبہ مظلوموں اور غریبوں کے ہر وقت ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا بتایا کہ شعبے نے وکیلوں کا ایک پینل بنایا ہے جو ستائے ہوئے لوگوں کے لئے قانونی لڑائی لڑے گا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے وکیل سالم نوید اور ویبھو شریواستو نے بھی سیمنار میں اپنے مقالات پیش کئے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ویبھو شریواستو نے کہا کہ لوک تنتر کا مطلب ’عوام کا حق‘ ہوتا ہے اور آج اسی پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے اور اگر آپ بلڈوزر تنتر کے ساتھ ہیں تو آپ ملک کے خلاف ہیں۔ دریں اثنا، عمران پرتاپ گڑھی نے یہ شعر پڑھا، ’کتاب سادہ رہے گی کب تک، کبھی تو آغازِ باب ہو گا، جنہوں نے بستی اُجاد ڈالی، کبھی تو ان کا حساب ہوگا!‘