لفٹینٹ گورنر نے کمانڈ ہسپتال ناردرن کمانڈ اودھمپور میں سابق فوجیوں ، ویر ناریوں اور شہریوں کیلئے منعقدہ میگا آئی کیمپ ’’ آپریشن درشٹی ‘‘ کی اختتامی تقریب میں شرکت کی

لفٹینٹ گورنر نے کمانڈ ہسپتال ناردرن کمانڈ اودھمپور میں سابق فوجیوں ، ویر ناریوں اور شہریوں کیلئے منعقدہ میگا آئی کیمپ ’’ آپریشن درشٹی ‘‘ کی اختتامی تقریب میں شرکت کی

ہندوستانی فوج کی بے لوث خدمت اور عظیم قربانیوں پر مجھے فخر ہے ۔ لفٹینٹ گورنر سنہا

جموں//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے کہا کہ ’’ مجھے ہندوستانی فوج کی بے لوث خدمت اور عظیم قربانیوں پر فخر ہے جو اتحاد اور قومی یکجہتی کی علامت ہے ۔ فوج نے جموں و کشمیر یونین ٹیر ٹری میں پائیدار امن اور مجموعی ترقی کیلئے ساز گار ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ‘‘ وہ کمانڈ ہسپتال ناردرن کمانڈ اودھمپور میں سابق فوجیوں ، ویر ناریوں اور شہریوں کیلئے منعقد کردہ میگا آئی کیمپ ’’ آپریشن درشٹی ‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ چار روزہ طویل کیمپ کے دوران دہلی کے آرمی ہسپتال ریسرچ اینڈ ریفرل سے آئے پیشہ ور ماہرین چشم کی ٹیم نے موتیا بند کے آپریشن انجام دئیے ۔ اپنے خطاب میں لفٹینٹ گورنر نے شمالی کمانڈ ، مسلح افواج کی میڈیکل سروسز ، آرمی ہسپتال ریسرچ اینڈ ریفرل دہلی اور کیمپ سے منسلک پیشہ ور میڈیکل ٹیم کی زبردست تعریف کی کہ انہوں نے قوم کے سامنے انسانیت کے اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی ہیں ۔ انہوں نے آرمی ہسپتال ریسرچ اینڈ ریفرل دہلی کے مشہور ماہر چشم برگیڈئیر ڈاکٹر سنجے مشرا کی بھی معاشرے کیلئے بے لوث خدمت پر خوب داد دی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ بے خوف سپاہی اور مخلص افسر بنانے کیلئے قائدانہ صلاحیتیں بہت ضروری ہیں جو آگے آگے چل کر قیادت کریں اور اپنی مثال خود قائم کریں ۔ یہ کیمپ ایسی ہی قیادت کی دلیل ہے جو کمیونٹیز کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے رہی ہے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے سب سے اپیل کی کہ وہ آنکھیں عطیہ کرنے میں حصہ لیں اور دوسروں کو بھی اس عظیم الشان مقصد کیلئے ترغیب دیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیمپ بینائی سے متعلق امراض کے بارے میں آگاہی کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے اور آنکھوں کی دیکھ بھال کے بارے میں اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں اس قسم کے کیمپس ان کمزور لوگوں تک پہنچتے ہیں جو اکثر اپنی آنکھوں کی بیماریوں سے بے خبر ہوتے ہیں یا علاج کیلئے ضروری آمدنی اور وسائل نہیں رکھتے ، اس طرح ان تک براہ راست انتہائی ضروری علاج پہنچایا جا رہا ہے ۔
لفٹینٹ گورنر نے بہادر بھارتی مسلح افواج کے اہلکاروں کی بھی ستائش کی جن کی نڈر بہادری اور قربانیوں کی بدولت سیکورٹی خطرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا رہا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ ہماری عظیم قوم پرامن بقائے باہمی ، باہمی ہم آہنگی اور دوستی کے اصولوں کیلئے پختہ عہد ہے ۔ آج بھارت کو اپنی طاقت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ قوم کے بہادر مسلح افواج اس کی بہادری کے ایک زبردست گواہ کے طور پر کھڑے ہیں ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے زور دیا کہ مسلح افواج کو تیزی سے بدلتے ہوئے سیکورٹی ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنا اور چوکس رہنا چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ دشمن امن کو تہس نہس کرنے اور بھارت کی ترقی کو روکنے کی مذموم کوششیں کر رہا ہے ۔ حال ہی میں جموں و کشمیر پولیس نے ایک پین انڈیا دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے اسے نیست و نابود کر دیا جو ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں کی ایک سیریز کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا ۔ ایسی صورتحال میں ہمیں قوم کا وقار برقرار رکھنے ، سرحدوں کی حفاظت کرنے اور اتحاد و سالمیت کو محفوظ کرنے کیلئے چوکس رہنا چاہئیے ۔ ‘‘ وزیر دفاع مسٹر راج ناتھ سنگھ اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اپندر دویدی نے بھی ویڈیو پیغامات کے ذریعے ناردرن کمانڈ ، آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز اور اس نیک کام سے وابستہ تمام افراد کو مبارکباد پیش کی ۔ اس موقع پر آنکھوں کی دیکھ بھال پر ایک کتابچہ بھی جاری کیا گیا ۔ کیمپ نے جموں و کشمیر کے دور دراز اضلاع بشمول اودھمپور ، ڈوڈہ ، راجوری ، پونچھ ، کشتواڑ اور رام بن کے رہائشیوں کو طبی سہولیات فراہم کیں ، جہاں ایک ہزار سے زائد افراد کا طبی معائینہ کیا گیا اور 300 سے زیادہ آپریشنز کئے گئے ۔ تقریب میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما مسٹر سنیل شرما ، جی او سی ان سی ناردرن کمانڈ لفٹینٹ جنرل پرتک شرما ، ڈائریکٹر جنرل آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز سرجن وائس ایڈمرل آرتی سرین ،ڈائریکٹر جنرل میڈیکل سروسز ( آرمی ) لفٹینٹ جنرل سی جی مورلیدھرن ، بریگیڈئیر ڈاکٹر سنجے مشرا ، ڈپٹی کمشنر اودھمپور ، سینئر افسران ، سابق فوجی ، ویر ناریاں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے ۔