ان خاندانوں کیلئے انصاف کیلئے طویل انتظار ختم ہوا ۔ بحالی کے ٹھوس اقدامات سے ہم نے ان کی عزت اور نظام پر اعتماد بحال کیا۔ لفٹینٹ گورنر
سرینگر//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے ہفتے کے روز لوک بھون سرینگر میں کشمیر ڈویژن کے دہشت گردی متاثرین کے 39 قریبی رشتہ داروں ( NoKs ) کو تقرری کے خطوط حوالے کئے ۔ لفٹینٹ گورنر نے دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو انصاف ، نوکریاں اور عزت دلانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ۔ ان خاندانوں کے افراد جن کے پیاروں کو دہشت گردوں نے بے رحمی سے قتل کر دیا تھا ، نے خوفناک واقعات اور کئی دہائیوں تک خاموشی میں گذرے صدمات کی داستان سنائی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ ان خاندانوں کیلئے آج انصاف کی طویل انتظار کی گھڑی ختم ہو گئی ہے ۔ بحالی کے ٹھوس اقدامات کے ذریعے ہم نے ان کی عزت اور نظام پر اعتماد بحال کیا ہے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ دہشت گردی نے نہ صرف جانیں لیں بلکہ خاندانوں کو تباہ و برباد کر دیا اور معصوم بچوں جو والدین کے بغیر بڑے ہوئے کے گھرانوں کو دہائیوں کی خاموشی ، بدنامی اور غربت کا شکار بنا دیا ۔ ہر دہشت گردانہ قتل کے پیچھے ایک گھر کی ایسی داستان چھپی ہے جو کبھی سنبھل نہ سکا ۔ ’’ اننت ناگ کی پاکیزہ ریاض ، جن کے والد ریاض احمد میر کو 1999 میں شہید کر دیا گیا اور حیدرپورہ سرینگر کی شائستہ ، جن کے والد عبدالرشید گنائی کو 2000 میں قتل کر دیا گیا ، دونوں کو سرکاری نوکری کے تقرری کے خطوط مل گئے ہیں جس سے ان کی انصاف اور معاوشی استحکام کی طویل جستجو بالآخر ختم ہو گئی ۔ بی ایس ایف کے بہادر سپوت الطاف حسین کے بیٹے اشتیاق احمد جو تقریباً 19 سال پہلے دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہو گئے تھے ، کو بھی سرکاری نوکری مل گئی ہے ، جو اس خاندان کیلئے مدد لائے گی جس نے اپنے باپ کی عظیم قربانی کے بعد بہت تکلیفیں برداشت کی ہیں ۔ قاضی گنڈ کے دلاور غنی اور ان کے بیٹے فیاض غنی کے خاندان کو بالآخر انصاف مل گیا ، جنہیں 4 فروری 2000 کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا ۔ ایک ہی دن میں فیاض کی چھوٹی بیٹی فوزی نے زندگی کے دو ستون دو نسلوں کی حمایت اور رہنمائی کھو دئیے ۔ وہ گھر جو کبھی گرم جوشی اور ہنسی سے گونجتا تھا ، اچانک خاموشی اور غم کا شکار ہو گیا اور انہوں نے 25 سال خوف و غم میں گذارے ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’30 سال پہلے سرینگر کے رہائشیہ عبدالعزیز ڈار کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا ۔ آج ان کے خاندان کی طویل جستجو انصاف اختتام پذیر ہوئی ۔ ‘‘لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد دہشت گردی کے متاثرین کے خاندانوں میں نیا حوصلہ اور خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے اور اب وہ دہشت گردی کے ایکو سسٹم کے خلاف بے خوف ہو کر بول رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ نظام نے ان متاثرین کو ان کے کیسز کی مستحق ترجیح نہ دے کر ناکام کیا تھا ۔ ہم متاثرین کی آوازوں کو بااختیار بنا رہے ہیں اور انہیں ان کے مستحق حقوق اور مراعات دلا رہے ہیں ۔ ہم انہیں تیز اور منصفانہ انصاف دلانے کیلئے بھی پر عزم ہیں ۔ ‘‘
لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنا ایک ایسا کام ہے جسے پورے معاشرے کو مل کر انجام دینا ہے ۔ ہمیں اس لعنت کے خلاف عزم ، صبر اور دشمن کی کوششوں کو ناکام بنانے کا عہد کرنا چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ طویل عرصے تک نظام نے ان خاندانوں کے درد اور صدمے کو نظر انداز کیا ۔ دہشت گردی کے حقیقی متاثرین اور سچے شہیدوں کو دہشت گردی کے ایکو سسٹم کے عناصر نے ستایا ۔ ایک طرف او جی ڈبلیوز کو سرکاری نوکریاں دی جاتی تھیں ، دوسری طرف دہشت گردی کے متاثرین کے لواحقین کو خود اپنا بندو بست کرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ اس موقع پر کمپیشنٹ اپوائینٹمنٹ رولز ایس آر او 43 اور ری ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم ( آر اے ایس ) کے تحت 39 دیگر مستفیدین کو بھی تقرری کے خطوط تقسیم کئے گئے ۔ دہشت گردی کے متاثرین کے 156 خاندانی افراد کو مختلف اسکیموں کے تحت خود روز گار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں جن میں مشن یووا ، ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام ( ایچ اے ڈی پی ) اور پرائم منسٹر ائمپلائمنٹ جنریشن پروگرام ( پی ایم ای جی پی ) شامل ہیں ۔ مزید براں دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کی ملکیت والی جائیدادوں سے 17 تجاوزات ہٹائے گئے ہیں ۔ دہشت گدری کے متاثرہ 36 خاندانوں کے گھروں کی دوبارہ تعمیر کیلئے شناخت کی گئی ہے ۔ مزید خاندانوں کی شناخت کی جائے گی اور اس عمل کے جاری رہنے پر انہیں شامل کیا جائے گا ۔ اوڑی اور کرناہ میں پاکستانی گولہ باری سے تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر نو کا کام اپریل میں شروع ہو گا ۔ اس موقع پر اسپیشل ڈی جی کوارڈینیشن پی ایچ کیو ، پرنسپل سیکرٹری ہوم ، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی ، لفٹینٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، آئی جی پی کشمیر ، ڈپٹی کمشنر سرینگر ، چئیر مین سیو یوتھ سیو فیوچر فاؤنڈیشن اور فاؤنڈیشن کے دیگر اراکین ، سینئر افسران ، مختلف سماجی تنظیموں کے اراکین اور دہشت گردی کے متاثرہ خاندانوں کے افراد موجود تھے ۔










