لفٹینٹ گورنر نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے 11 ویں کانوکیشن تقریب سے خطاب کیا

ہماری کوشش ہونی چاہئیے کہ نصاب کا بوجھ کم کیا جائے اور مستقبل میں روز گار کیلئے موافقت پذیر ہنر تیار کیا جائے ۔ لفٹینٹ گورنر

جموں//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے 11 ویں کانوکیشن تقریب میں شرکت کی ۔ اپنے خطاب میں لفٹینٹ گورنر نے پرانی روٹ لرننگ سسٹم سے جدید اور ہنر پر مبنی سیکھنے کے طریقوں کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ بدلتی ہوئی دنیا کے مطالبات کو پورا کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ نصاب کا بوجھ کم کیا جائے اور مستقبل میں روز گار کیلئے موافقت پذیر ہنر تیار کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا ’’ اگر کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کا ایک بھی طالب علم بے روز گار ہے یا اپنا کوئی کاروبار قائم نہیں کر رہا تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تعلیمی ادارہ اور اس کے اساتذہ نے اپنا فرض ایمانداری سے ادا نہیں کیا ‘‘ ۔ لفٹینٹ گورنر نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ زندگی میں نئے راستے بنائیں ، زندگی کو نئی سمت دیں ، نئے پہلوؤں کی تلاش کریں اور قوم کی خوشحالی کیلئے نئے طریقے تجویز کریں ۔ انہوں نے کہا ’’ 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے ہر طالب علم اور ہر تعلیمی ادارے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی کیونکہ مستقبل اور اس کی ترقی علم پر مبنی معیشت پر منحصر ہو گی ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں اور 21 ویں صدی کی افرادی قوت کے مطالبات کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کیلئے پانچ حل پیش کئے ۔ انہوں نے کہا ’’ تعلیم ، سیکھنے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں مصنوعی ذہانت کو مربوط کریں اور نئی ٹیکنالوجیکل ٹولز کو ترجیحی بنیاد پر اپنائیں ۔ روٹ لرننگ سے ہٹ کر زندگی بھر جاری ، لچکدار اور مہارت پر مبنی سیکھنے کے ماڈل کی طرف منتقلی کریں ۔ صنعت اور دیگر اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کریں ۔ تجرباتی سیکھنے پر توجہ مرکوز کریں ۔ خاص طور پر انسانیات ( ہیومانٹیز ) کے طلبہ کو یہ سمجھنا چاہئیے کہ مصنوعی ذہانت کے غلبے والی دنیا میں وہ چیزیں جنہیں مشینیں فراہم نہیں کر سکتیں ان کی اہمیت بڑھ جائے گی ۔ جدے ، تحقیق اور سماجی خدمت پو توجہ دیں ، جدید ترین تحقیق کریں اور مقامی مسائل کے حل پیش کریں ۔ ‘‘
لفٹینٹ گورنر نے تعلیمی برادری کی ذمہ داری پر زور دیا کہ وہ سائینس ، انسانیات اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی ترقی کے انسانی تہذیب پر اثرات کا مطالعہ اور تجزیہ کرے ۔ انہوں نے زور دیا کہ کلاس روم کی تدریسی طریقہ کار کو ان تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے ارتقاء پذیر ہونا چاہئیے تا کہ وہ معاشی ترقی اور سماجی پیش رفت دونوں کو فروغ دے سکیں ۔ انہوں نے کہا ’’ کلاس روم اور ہماری تعلیمات طلبہ کو بہتر زندگیاں بنانے ، جامع ترقی کو فروغ دینے اور زیادہ روشن خیال معاشرہ تخلیق کرنے کیلئے تیار کریں ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی بھارت کے تعلیمی منظر نامے میں نمایاں شراکت اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے اس کی پختہ وابستگی کی تعریف کی ۔ انہوں نے خواتین طلبہ کو ان کی غیر معمولی تعلیمی کامیابیوں اور برتری کے نئے معیارات قائم کرنے پر مبارکباد دی ۔ لفٹینٹ گورنر نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی پر جموں و کشمیر یونین ٹیرٹیری کے سامنے آنے والے چیلنجوں کیلئے سائنسی حل فراہم کرنے کا اعتماد کیا ۔ حالیہ تباہ کُن قدرتی آفات کے تناظر میں لفٹینٹ گورنر نے یونیورسٹی سے کہا کہ وہ کلاؤڈ برسٹ ، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کیلئے جدید ابتدائی انتباہی نظاموں پر تحقیق کو ترجیح دے ۔ انہوں نے پائیدار انفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیا اور سڑک اور تعمیراتی مواد کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال پر خصوصی تحقیق کی اپیل کی ۔
لفٹینٹ گورنر نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی سے کہا کہ وہ ڈوگری اور ویدک مطالعہ کے کورسز کو دوبارہ ڈیزائن کرے تا کہ یہ مضامین زیادہ دلچسپ اور عصری بن جائیں اور زیادہ طلبہ کو راغب کریں ۔ انہوں نے تاخیر کا شکار انڈور اسٹیڈیم کی فوری تکمیل کیلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی بھی ہدایت دی ۔ لفٹینٹ گورنر نے شرائین بورڈ کی حالیہ قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کی امداد اور بحالی میں کلیدی کردار کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے بورڈ کی سنسکرت اور ویدک تعلیم کیلئے وقف اداروں کی حمایت کے ذریعے ثقافتی تحفظ میں جاری عزم کی تعریف کی ۔ انہوں نے بتایا کہ شرائین بورڈ نے ریاسی اور ملحقہ علاقوں کے مقامی سیلف ہیلپ گروپس سے 22 کروڑ روپے کی مصنوعات خریدی ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ انہوں نے شرائین بورڈ کے سی ای او کو ہدایت دی ہے کہ مقامی رہائشیوں سے زیادہ سے زیادہ خریداری کی جائے تا کہ ان کے روز گار کو سپورٹ ملے ۔
لفٹینٹ گورنر نے مزید بتایا کہ شرائین بورڈ نے ضلع میں شنکراچاریہ مندر سمیت پانچ دیگر مندروں کی تعمیر شروع کی ہے جبکہ کٹرا میں دیوی کا ایک بین الاقوامی عجائب گھر قائم کیا جائے گا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ کٹرا اور شو کھوڑی میں ہیلی پیڈز کی تعمیر آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے مہا شوراتری کے موقع پر عقیدت مند کٹرا سے شو کھوڑی مندر تک ہیلی سروسز حاصل کر سکیں گے ۔ ‘‘ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے ’ ہائی اینڈ کمپیوٹنگ اے آئی اور ڈیپ لرننگ لیب ‘ اور ’ شادی شدہ سکالرز کیلئے رہائش ، کا افتتاح کیا ۔ تقریب کے دوران کُل 821 ڈگریاں تقسیم کی گئیں جن میں 228 ماسٹرز ، 26 ڈاکٹریٹ اور 567 انڈر گریجویٹ ڈگریاں شامل تھیں ۔ 25 ممتاز طلبہ ( 7 مرد اور 18 خواتین ) کو تمغے بھی دئیے گئے ۔ مجموعی طور پر 10 طلبہ ( 4 مرد اور 6 خواتین ) نے انفوسس فاؤنڈیشن پرائز فار ایکسلنس حاصل کیا ، جبکہ 11 طلبہ کو سرٹیفکیٹ آف ڈسٹنکشن سے نوازا گیا ۔ پروفیسر ( ڈاکٹر ) پرگتی کمار وائس چانسلر شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی نے موقع پر یونیورسٹی کی رپورٹ پیش کی ۔
تقریب میں سابق چئیر مین آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن ، ممبران شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ، شعبہ جات کے سربراہان ، فیکلٹی اور طلبہ شریک ہوئے ۔ چئیر مین ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل ریاسی مسٹر صراف سنگھ ناگ ، ایم ایل اے حلقہ ہائے ماتا ویشنو دیوی مسٹر بلدیو راج شرما ، ڈویژنل کمشنر جموں ، آئی جی پی جموں ، سی ای او شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ ، ڈپٹی کمشنر ریاسی اور دیگر سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے ۔