سرینگر//لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ یو ٹی انتظامیہ نے کھیلوں کو اولین ترجیح دی ہے اور لاکھوں باصلاحیت نوجوانوں کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کیلئے مواقع کے ساتھ ساتھ وسائل بھی پیدا کئے ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر ایس کے انڈور اسپورٹس کمپلیکس سرینگر میں 28 ویں قومی ماسٹرز ٹیبل ٹینس چیمپین شپ 2022 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ چیمپین شپ کا انعقاد جے اینڈ کے ٹیبل ٹینس ایسوسی ایشن نے جے اینڈ کے اسپورٹس کونسل اور انڈین ویٹرنز ٹیبل ٹینس کمیٹی کے تعاون سے ٹیبل ٹینس فیڈریشن آف انڈیا کے زیر اہتمام کیا ہے ۔ چیمپین شپ میں 28 ریاستوں ، 8 یو ٹیز اور مختلف اداروں کے 1000 سے زیادہ کھلاڑی اور اہلکار حصہ لے رہے ہیں ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لایا جائے تا کہ وہ کھیلوں کے میدان میں اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپورٹس کونسل عالمی معیار کا انفراسٹرکچر بنانے کیلئے غیر معمولی کوششیں کر رہی ہے ۔ کھلاڑیوں اور کوچز کو قومی اور عالمی سطح پر پرفارمنس دینے کیلئے معاونت فراہم کر رہی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ سپورٹس کونسل آج ہر نوجوان ٹیلنٹ تک پہنچ رہی ہے ۔ پانی کے کھیل ہوں ، کرکٹ ، فُٹ بال ، بیڈ منٹن ، جوڈو ، ووشو ، رگبی ، ٹینس ، ہاکی ، جمناسٹک ، ٹیبل ٹینس یا لان ٹینس ، ہمارے پاس تمام کھیلوں کے شعبوں میں بہتر کوچنگ اور بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ۔ ملک بھر میں کھیلوں کے ایک نئے دور کی شروعات کرنے کیلئے عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ پہلی بار کھیلوں اور کھلاڑیوں کو مناسب وسائل ، احترام اور ہینڈ ہولڈنگ مل رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل دُنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہونے کے باوجود ہم کھیلوں کی ایسی سبہیی نہیں بنا سکے جو نئی نسل کو متاثر کر سکیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حال ہی میں ختم ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں ملک کی کارکردگی وزیر اعظم کی طرف سے لائی گئی مثبت تبدیلی کا منہ بولتا مثبت ثبوت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے ہیرو دُنیا بھر میں کھیلوں کے تمام بڑے مقابلوں میں اپنی جادوئی کارکردگی کے ذریعے نوجوان ہندوستان کو نئی توانائی ، نئی ترغیب دے رہے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2019 کے بعد اسی طرح کی تبدیلی شروع کی گئی تھی اور پچھلے تین برسوں میں یو ٹی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے میدان میں ایک روشن مقام کے طور پر ابھرا ہے ۔ پہلے ایک سال میں صرف 2-3 لاکھ کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع ملتا تھا لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے اور گذشتہ سال 17 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو کھیلنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا جبکہ اس سال ہم نے 35 لاکھ نوجوانوں کو کھیلوں سے جوڑنے کا ہدف رکھا ہے ۔ اس سال جنوری میں شروع کی گئی اسپورٹس پولیسی کے ذریعے کھلاڑیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ اس سال جموں و کشمیر میں 13 قومی ٹورنامنٹ منعقد کئے جائیں گے اور تمام کھیلوں کے اداروں کے تعاون سے ملک بھر سے 11000 کھلاڑی یو ٹی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے ۔ یو ٹی بھر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی بڑی بہتری پر روشنی ڈالتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم کی رہنمائی میں جموں و کشمیر میں عالمی معیار کے کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے ۔ ایف آئی ایف اے اسٹینڈرڈ بخشی سٹیڈیم اور آئی سی سی اسٹینڈرڈ ایم اے سٹیڈیم کو بین الاقوامی سطح کے میچوں کیلئے اپ گریڈ اور تزئین و آرائش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں کھلاڑیوں کی ضروریات کے مطابق تمام سہولیات کے ساتھ ایک کثیر مقصدی انڈور سپورٹس ہال بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ماسٹرز ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ ان کا تجربہ اور توانائی نئی نسل کیلئے تحریک کا باعث بنے گی ۔ اس موقع پر انہوں نے سابق فوجیوں کو تعریفی نشان کے طور پر شال بھی پیش کئے ۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چئیر پرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے لفٹینٹ گورنر کی زیر قیادت یو ٹی انتظامیہ کی ستائش کی جس نے کھیلوں کی ترقی کا ایک نیا دور شروع کیا ۔ لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر نے جموں و کشمیر میں کھیلوں کے میدان میں ہونے والی تبدیلی پر روشنی ڈالی ۔ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کے سیکرٹری مسٹر سرمد حفیظ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔ اس موقع پر مئیر ایس ایم سی جنید عظیم مٹو ، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، ڈی آئی جی سی کے آر سرینگر ، ، ڈپٹی کمشنر سرینگر ، ایس ایس پی سرینگر ، ڈائریکٹر یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس ، سیکرٹری جے اینڈ کے اسپورٹس کونسل ، جے اینڈ کے ٹیبل ٹینس ایسوسی ایشن کے چئیر مین اور چیمپین شپ کے آرگنائیزنگ سیکرٹری کے علاوہ سینئر افسران ، اسپورٹس ایسوسی ایشن کے ممبران ، کھیلوں کی سرکردہ شخصیات اور کھیل سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے ۔










