لداخ کے بغیر جموں کشمیر ،اور جموں کشمیرکے بغیرلداخ اُدھورا:قمرعلی آخون

سرینگر//لداخ کے بغیر جموں وکشمیر اور جموںو کشمیرکے بغیر لداخ کواُدھورا قراردیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے سینئرلٰیڈر اور کرگل ڈیموکریٹک کے سینئر رکن نے کہا کہ اگرچہ موجودہ مرکزی حکومت کی جانب سے 370اور 35Aکی بحالی کے امکانات نہیں ہے تاہم جموںو کشمیر کے لوگوں کوپرامن طور پرآیئنی جمہوری اخلاقی بنیادوں پراپنی جدو جہد جاری رکھنی ہوگی مرکزی حکومت کودوٹوک الفاظ میں اس بات سے آگاہ کیاگیاکہ 5اگست کے فیصلے سے جموںو کشمیراور لداخ کے لوگ مطمئن نہیں ہے کرگل ڈیموکریٹک الائنس چھٹے شڈول کے خلاف ہے تاہم ایک ریاست کی بحالی کے سلسلے میں لہہ ایپکس کمیٹی کی مددکے لئے تیار ہے بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان لداخ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہے دو کونسلرخود کوکبھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے تو کبھی آزادامیدوار جھٹلاتے ہے۔ اے پی آ ئی کے ساتھ گفتگوکے دوران کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے سینئررکن نیشنل کانفرنس کے سینئرلیڈرسابق وزیرقمرعلی آخون نے کہاکہ کرگل ہی نہیں بلکہ پورالداخ جموں کشمیرکے بغیراُدھوراہے اور اسی طرح لداخ کے بغیرجموں وکشمیربھی جسم کے ایک اجزاء سے کٹ کررہ جائیگا۔ انہوںنے مرکزی حکومت سے جموں کشمیرکی تقسیم اور خصوصی درجے کے منسوخی کی کارروائی کوغیرآ ئینی غیرجمہوری قراردیتے ہوئے کہاکہ جب سے حکومت نے لداخ کومرکزی زیر انتظام علاقہ قراردیاہے تعمیروترقی کاکوئی کام وہاں نہیں ہورہاہے چالیس فیصدرقومات تعمیراتی سرگرمیوں پرخرچ کرنے کے بجائے لیپس ہوجاتی ہے ایک ایسی بیروکریسی لداخ کے لوگوں پر ٹھونپ دی گئی ہے جس سے لداخ کی جغرافیائی کی کوئی علمیت نہیں ہے ۔نیشنل کانفرنس کے سینئرلیٰڈ رنے کہاکہ جموںو کشمیرکے مقابلے میں لداخ کے لوگ زیادہ مشکلات کاسامناکررہے ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہم ڈومیسائل کے بارے میں بھی تحفوظات کااظہار کرتے ہے اور جب تک نہ مرکزی حکومت کی جانب سے انہیں سرکاری نوکریاں یااراضی کی خریدفروخت مقامی لوگوں تک ہی محدود رکھنے کی ضمانت فراہم کی جائیگی تب تک ڈیموکریٹک الائنس خاموش بن کرنہیں رہے گی۔ انہوںنے کہاکہ ڈیموکریٹک الائنس پیپلزالائنس کے ساتھ 370اور 35Aکی بحالی کے سلسلے میں ہرممکن ساتھ دیگی اور کرگل کے لوگوںنے کبھی بھی خصوصی درجے کومنسوخ کرنے کافیصلہ تسلیم نہیں کیاہے ۔کشمیراور لداخ کی موجودہ صورتحال کوانہوںنے غیراطمنان بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ اعلانات کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ہے زمینی صورتحال کاہمیں جائزہ لیناہوگا لوگ سماجی اقتصادی طور پربدحال ہوگئے ہے پچھلے دوبرسوں سے لوگوں کوجس معاشی بحرا ن کاسامنا کرنا پڑرہاے ا سکی کئی مثال نہیں مل پارہی ہے سرکاری اداروںمیں جواب دیہی شفافیت اور ورک کلچر کوبہتربنانے کے تمام دعوے سرآب ثابت ہورہے ہے۔ انہوںنے کہاکہ لداخ میں کرگل کواہمیت نہیں دی جارہی ہے حالانکہ لداخ کو جب متحدہ ریاست میں صوبے کادرجہ دیاتھاتو کرگل کے لوگوں کے ساتھ وعدہ کیاتھاکہ نصف ادارے کرگل میں رہے گے اور سرکار نے اس اپنے وعدے کوعملی جامہ نہیں پہنایا۔