امورصارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کاریٹ لسٹ بے معنیٰ اور عوام کے لئے وبال جان بند کمروں میں اس طرح کی کارروائیاں عمل میں لانے کے لئے یاتو عوامی حلقہ بے جان بننے کی کوشش کرتے ہے یاپھر انہیں حقیقی صورتحال کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ۔بے روز گاری کے بعد کشمیر وادی میں مہنگائی کاجن بوتل سے باہر آ گیاہے اور جس بڑے پیمانے پرمہنگائی غریب لوگوں کومتاثر کررہی ہے اس کی کہی مثال نہیں مل پارہی ہے ۔کریانہ فروشوں دودھ بیچنے والوں سبزی فروشوں پھل فروٹ بیچنے والوں کے ساتھ ساتھ ملبوسات جوتے فروش اور دوسرا کاروبار کرنے والے عوام کوراحت پہنچانے کے بجائے ان کی کھالاتارنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے ہے ۔اس بات میں بھی شک نہیں کہ امور صارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ کی انفورس منٹ ونگ بازاروں کامعائنہ بھی کرتی ہے اور ناجائز منافہ خوروں کے خلاف ان کی سب سے بڑی کارروائی جرمانہ وصول کرنے تک محدو د رہ گئی ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق قصاب وادی کشمیرمیں ببانگ دہل چھ سو پچاس روپے گوشت فی کلو کے حساب سے فروخت کررہے ہے او رسرکار ان کابال بھی بیکانہیں کر پارہی ہے ۔پیرنٹ مرغ تین سو روپے بوئلرمرغ 135فی کلوانڈے 160فی ٹرے سبزیوں کی قیمتوں میں ہردن فی کلو اضافہ خام دودھ 45 روپے دہی 55روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہورہاہے کریانہ فروشوں نے چائے، تیل ،مصالحہ جات اور دیگر ضروریات زندگی کے اشیاء کی قیمتیں خود بڑھادیئے ہے اور اسی طرح جوتا فروشوں، ملبوسات بیچنے والوں کی لوٹ کھسوٹ بھی عروج پرہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق کہ قیمتوں کواعتدال پررکھنے کیلئے طریقہ کار واضح نہیں کیاجاتاہے ۔امور صارفین عوامی تقسیم کاری محکمہ نے جو ریٹ لسٹ بنایاہے وہ زمینی حقائق سے کئی بھی میل نہیں کھاتاہے اور ریٹ لسٹ بنانے والے یاتو زمینی صورتحال سے بے خبر ہے یا جن اشیاء کی قیمتوں کووہ مقرر کرتے ہے ان کے میعار کے بارے میں انہیں کوئی جانکاری نہیں قلم او رکاغذ ہاتھ میںاٹھایا قیمتیں مقرر کرتے ہے۔










