hassn sahoo

قُلّی

افسانہ نگار
حسن ساہوؔ

مشل مشہور ہے کہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اب دیکھیے نا پیار و محبت کے لوازمات سے مالامال اپنی بستی کے مکین برسوں سے بلالحاظ رنگ،نسل اور مذہب ایک دوسرے کے دُکھ سکھ یا کسی بھی طرح کی تقریب میں شرکت کرنااپنا ایمان جانتے تھے۔یقینََاآشتی و سلامتی کا گہوارہ اور مروّت و اخلاص کی زندہ تصویر تھی یہ بستی ۔نہ جانے کن بدخواہوں کی نظر لگ گئی کہ کچھ خودغرض شرپسند عناصر نے خاص مصلحت کے تحت پلید ہتھکنڈے اپنائے اور خوف وہراس کا ماحول بپاکرنے میں اپنی عافیت جان لی ۔دیکھتے ہی دیکھتے بستی کے طول و عرض میں نفرت و کدورت کے سیاہ بادل آب وتاب کے ساتھ منڈلانے لگے۔
نامساعدت حالات کے زیر اثر اعتماد و اعتبار کے تھم ایک ایک کرکے زمین بوس ہوگئے۔لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات دیکھنے اور سنے کو ملے۔حالات کشیدہ ہونے کی صورت میں پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد نے ہجرت کی راہ اپنالی۔
چمن لعل وشنوی محکمہ صحت میں ملازم تھے۔انہوں نے ابتر حالات کے باعث والدین،بیوی اور بچے کو ٹیکسی میں جموں بھیج دیا۔خود محکمہ سے رُخصت دو ماہ کی منظوری کراکے ضروری سامان ازقسم برتن و کپڑے دو صندوقوںمیں جمادیا۔اگلے رو ز سویرے دونوںصندوق رابطہ سڑک کے نکڑتک نکال کر رکھ دیئے۔ایک صندوق وہ آسانی کے ساتھ اٹھا سکتا تھا البتہ دوسرے صندوق کے لئے قلی کی ضرورت تھی۔
چمن لعل پریشانی کا ہدف نبے اِدھر اُدھر کھوجنے لگا ۔لیکن مزدور نہ ملا ۔اتنے میں ایک ادھیڑ عمر کا شخص وہاں سے گزرا۔ اس نے بغور چمن لعل کا جائزہ لیا ۔اور تسلی ہونے کے بعد زبان واکردی۔
’’ کیوں بیٹے قلی کی تلاش ہے‘‘۔
’’جی انکل ۔ بس اسٹینڈ تک جانا ہے‘‘۔
’’ وقت ضائع نہ کرو ۔حالات اچھے نہیں ،بڑا صندوق میرے سر پر رکھ دو اور دوسرا چھوٹا والا خود اُٹھائو اورچلتے بنو‘‘۔
’’کیا آپ مزدور ہیں ‘‘۔چمن لعل نے پوچھا۔
’’ ایسا ہی سمجھو مگر جلدی کرو ‘‘۔
الغرض صندوق لئے دونوں بس اسٹینڈ کی جانب چل پڑے کلیدی سڑک پر کافی بھیڑتھی ۔ٹریفک بھی خاصا تھا ۔قلی نماشخص بھیڑ کو چیرتا ہوا آگے بڑھا ۔وہ نظروں سے اوجھل ہونے لگا ۔اچانک چمن لعل کو خیال آیا :
’’ یہ شخص مزدور نہیں لگتا ۔ غالباًسادہ لباس میں لٹیرا ہے۔میرا صندوق ہڑپ کرنا چاہتا ہے ۔یہ مجھ سے آگے جانے کی کوشش میں کیوں ہے۔ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ‘‘۔
چمن لعل نے آگے جاکے اسے آہتہ چلنے کو لہا ۔پر وہ وہ آگے بڑھتا ہی گیا ۔
چمن لعل ظاہری طور سادہ آدمی پرشک کرنے لگا اور سوچنے لگا کہ ’’وہ مجھے جُل دے کر صندوق اڑانا چاہتا ہے ۔مگر میں آسانی کے ساتھ اس کے چکر میں آنے والا نہیں ‘‘۔
یہ سوچتے ہی چمن لعل چوکس ہوگیا اور پاس جا کے سخت لہجے میں قلی نما شخص سے کہا:
’’تم مجھ سے آگے جانے کی کوشش نہ کرو، مجھے دھوکا دینا چاہتے ہو؟‘‘۔
’’ صندوق وزنی ہے ۔اس لئے درمیان رابطہ سڑک اپنانا چاہتا تھا ۔ویسے میں آپ کو ہی تلاش کر رہا تھا ‘‘۔
’’مجھے تلاش کرنے یا بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے ۔چالاک بننے کی کوشش مت کرو‘‘۔چمن لعل نےاسے خوب ڈانٹا۔
’’ بیٹے مجھے تم سے ہمدردی ہے ‘‘۔
چمن لعل پھر بھی باز نہ آیا اور کہا :
’’باتیں بناناچھوڑ دو۔میرے ساتھ ساتھ چلو‘‘۔
بالآخر خدا خدا کرکے بس اسٹینڈ پہنچ گئے ۔
’’کتنی مزدوری چاہے ‘‘۔ چمن لعل نے پوچھا ۔
قلی نما شخص چہرے کا پسینہ پونچھتے ہوئے پھر سے چمن لعل کے سراپاکاجائزہ لینے لگا اور پوچھ بیٹھا:
’’موہن لال وشنودی کے ساتھ تمہارا رشتہ ہے ‘‘۔
’’وہ میرے پتا جی ہیں‘‘۔
’’ میں نے صحیح اندازہ لگایا تھا ۔ہوبہو والد کی تصویر ہو‘‘۔
’’ آپ میرے پتا جی کو کیسے جانتے ہیں ‘‘۔
’’بیٹے آپ کے پتاجی اور میں نے چھبرس ایک ساتھ گزارے ہیں ۔ہم دونوں بھدرواہ کے ہائی اسکول میں مدرس تھے ۔وہ ہندی پڑھاتے تھے اور میں اردو ۔۔۔۔۔صبح مسجد سے نکل کر تمہیں دیکھ لیا اور فوراً پہچان گیا۔ میں قلی نہیں ہوں ‘‘۔
چمن لعل کی حالت ناگفتہ بہہ،آنکھوں سے اشکوں کی دھار بہہ نکلی اور پاؤں پر ڈھیر ہوگیا۔
’’انکل مجھے معاف کرنا ۔میں نے قلی جان کے آپ کو بُرابھلا کہا ۔آپ کی بے عزتی کی۔میں نہایت شرمندہ ہوں ‘‘۔
’’ارے اس میں بیٹھے تمہارا قصور نہیں ۔دراصل حالات ہی بدل گئے ۔انسان کس پر بھروسہ کرے۔۔۔اور ہاں اپنے پتا جی سے کہنا کہ ماسٹر سلام الدین ملے تھے۔میرا سلام اُسے کہہ دینا ۔جاؤ تمہارا سفر مبارک ہو‘‘۔

رابطہ:۔ ہمدانیہ کالونی بمنہ،سرینگر
9906439491