قیصر محمود عراقی
ذی الحج کا مہینہ آنے سے قبل ہی عید قرباں اور قربانی کا غلغلہ مچ جاتا ہے ۔ لاکھوں خوش نصیب بارگاہِ ازدی میں فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے اطراف واکنافِ عالم سے مکہ مکرمہ کھنچے چلے جاتے ہیں تاہم کروڑوں مسلمان اپنی ایمانی وروحانی تسکین کے حصول کے لئے سنتِ رسولؐ کی پیروری کرتے ہوئے اس عظیم واقعہ کی یاد تازہ رکھتے اور انتہائی ذوق وشوق کے ساتھ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کی رضاالٰہی کیلئے کی گئی عظیم قربانی کی یاد ہمیشہ زندہ وتابندہ رہے۔ ہم اور ہمارے اسلاف صدیوں سے یہ عمل دہراتے آرہے ہیں تاہم آج جب کہ امت مسلمہ گو ں ناگوں مسائل کی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، ایسے ماحول میں شدید ضرورت ہے کہ ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں جائزہ لیں کہ آیا اس عظیم عمل کی ادائیگی محض رسمی عبادت ہے اور اس کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا اور گوشت کا حصول ہے یا اص عمل کے پش پردہ وہ کارفرما رب تعالیٰ کو مطلوب مقاصد وحکمتیں ہیں۔
ہمارے معاشرے میں فریضہ نماز کی ادائیگی کا جو حال ہے وہ سب پر عیاں ہے البتہ قربانی کے فریضہ کا جائزہ لیں تو عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ ہزاروں افراد ، مردوخواتین یہاں تک کہ معصوم بچے اور بچیاں جانور کی تلاش میں دن دن بھر بلکہ رات بھر منڈیوں میں سر گرداں دکھائی دیتے ہیںاور نماز جیسے فرض سے جو کفر اور اسلام کا خط امتیاز ہے کوتاہی کرتے ہیں ۔ جبکہ قربانی نام ہے اپنی جان ومال سمیت فکر ونظریات ، خواہشات ، ضروریات ، پسند نہ پسند ، خوشی غمی حتیٰ کہ اہل وایال اور عزیز ترین شئے کو اپنے رب کی مرضی کے مطابق ڈھال لینا اور ہر طرح کے ایثار کیلئے ذہنی ، فکری ، مالی اور جسمانی رجحانات ومیلانات کو سیرت مصطفیٰ ؐ کے مطابق ڈھال لینا ہے۔ قربانی کا ایک معیار وہ ہے جو ابراہیم ؑ نے سب کچھ اللہ کی راہ میں پیش کرکے قائم کیا تھا اور قربانی کا ایک معیار رسول اکرمؐ نے زبانِ وحی ترجمان سے یوں بیان فرمایا کہ قربانی کا جانور صحت مند ہو بیمار نہ ہو ، آنکھ خراب اور بینائی سے محروم نہ ہو ، کمزور اور لاغر نہ ہو، اس کا کان کٹا پھٹا اور سینگ ٹوٹا ہوا نہ ہو،الغرض جانور کا ان تمام عیبوں اور نقائص سے پاک ہونا ضروری ہے، جو جانور ان عیبوں سے پاک ہوگا صرف اسی کے گلے پر چھری پھیری جاسکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ قربانی کے جانور کے گلے پر چھری پھیرنے والے مسلمان کیلئے بھی کوئی معیار ہے یا نہیں؟ جانور کے گلے پر چھری پھیرنے سے پہلے مسلمان کو یہ ضرور دیکھ لینا چاہئے کہ اس کا اپنا ایمان کمزور ، ضعیف ، ناقص اور لنگڑا تو نہیں؟ اس کے کان ، آنکھیں، ہاتھ، پائوں اللہ کی نافرمانی اور گناہوں سے داغدار تو نہیں؟ اس کا جسم ، دل ودماغ گناہوں کے عیبوں سے آلودہ تو نہیں؟ جانور کے گلے پر چھری پھیرنے والے نے پہلے اپنی نفسانی وشیطانی خواہشات کے گلے پر چھری پھیری یا نہیں؟ اور کیا جانور کی قربانی کرنے والے نے پہلے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسماعیل ؑ کی طرح خود کو اللہ کی راہ میں قربانی کیلئے پیش کیا یا نہیں؟ اگر ان تمام سوالوں کا جواب اثبات میں ہے تو پھر اے مسلمان!تو جانور کے گلے پر چھری پھیرنے کا حق رکھتا ہے، پھر تیری قربانی اللہ کے یہاں قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔ عید قرباں کا مقصد بھی یہ ہے کہ جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنے نفس ، اپنی روح کو احکام الہٰی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے ، اپنی خواہشات وانانیت کو قربان کیا جائے ۔ اگر انسان اس مبارک موقع پر اپنی انا کی قربانی کرلے تو نہ صرف بہت سی مشکلات سے چھٹکارا پاسکتا ہے بلکہ خدا کی بہت قربت حاصل کرسکتا ہے کیوں کہ یہ انا ہی بہت سے مسائل کی جڑہے ، اس کی وجہ سے انسان کی زندگی اجیرن ہوتی ہے کیوں کہ اس میں ہمیشہ اپنی ناک کٹنے کی فکر دامن گیر رہتی ہے اور آدمی اپنی ناک کو سلامت رکھنے کیلئے جائز ناجائز ہر طرح کے جتن کرتا ہے۔
قارئین محترم! جس مقصد کیلئے قربانی ہم پر فرض کی گئی وہ مقصد ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے، قربانی کے اس اہم فریضے کو محض ایک دنیاوی تہوار بنادیا گیا ہے، جس سے اس فریضے کی ادائیگی کا مقصد پورا نہیں ہوپاتا ۔ اگرچہ اچھے سے اچھے جانور کی قربانی کرنا افضل ہے لیکن آج کل نمود ونمائش کیلئے قربانی کے انتہائی مہنگے جانوروں کی قربانی کرنا ایک فیشن بن چکاہے، بہت سے لوگ نمود نمائش کے اور تفاخر کے لئے قربانی کرتے ہیں ،قربانی کو ایک دکھلاوا اور دولت کی نمائش بنادیا گیا ہے، بہت سے لوگ انتہائی قیمتی ایسے جانور قربانی کیلئے لیکر آتے ہیں جن کا مقصد محض اپنے علاقے میں اپنی امیری کا چرچہ کرنا ہوتا ہے حالانکہ اگر وہ لوگوں کو دکھانے کی غرض سے لاکھوں کی جانور خریدنے کی بجائے کچھ کم قیمت پر جانور خرید لے اور باقی پیسوں سے غریب کی ضرورت پوری کردے تو یہ عمل خدا کے نزدیک زیادہ محبوب ہوگا۔ ہمارا دین غریبوں اور ناداروں کی مدد کرنے پر خصوصی زور دیتا ہے ، عید قرباں اسی مقصد کو پورا کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے لیکن بہت سے لوگ فقط نام ونمود اور اپنی بڑائی کیلئے قربانی کرتے ہیں، رشوت، بدعنوانی وحرام مال سے لوگ قربانی کررہے ہیں حالانکہ اگر لباس ، جسم یا مال میں حرام مال کا شائبہ بھی ہوگیا تو ہزار بار کہتا رہے ’’لبیک الھم لبیک‘‘قربانی کا وہ جذبہ ختم ہوجاتا ہے جو ٓحضرت ابراہیم ؑ کو اللہ نے عطا فرمایا تھا کہ صرف ایک اشارے پر اولاد بھی قربان ہے ، وطن بھی قربان ہے،اللہ کی رضا کیلئے نمرود سے بھی ٹکر لی کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ میرا رب سب سے بڑا ہے اور وہ میرے ساتھ ہے۔ آج ہم مسلمانوں کو اس جذبے کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے، اگر قربانی کرتے ہوئے وہ جذبہ نہیں ہے تو ہماری تکبیر اور قربانی ہمیں کوئی فائدہ نہیں دیں گی بلکہ صرف قربانی کی رسم پوری ہوگی۔ اگر جانور کے گلے پر چھری پھیرتے ہوئے حضرت ابراہیم ؑ کی اس قربانی کا تھوڑا سا تصور آجائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ حضرت اسماعیل ؑکے گلے پر ان کے والد حضرت ابراہیم ؑ کی چھری تھی ، اگر اس جذبے کا تھوڑا سا حصہ بھی ہمیں نصیب ہوجائے تو آج امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے ان کا خاتمہ ہوجائیگا۔
آخر میں دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو عملاً ابراہیمی ؑ، محمدی ؐ اور مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے، اگر ہم اس راستے پر چل نکلیں تو ہماری نمازیں ، روزے ، زکوۃ، حج اور قربانیاں اللہ کے یہاں قبول ہوں گی۔
کریگ اسٹریٹ، کمرہٹی،کولکاتا۔۵۸










