آبی ذخائر تیزی کے ساتھ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔صاف پانی کے ندی نالے ماحولیاتی آلودگی کے نذر
سرینگر/// وادی میںموجود آبی ذخائر تیزی کے ساتھ ختم ہوتے جا رہے ہیں تو دوسری طرف قدرت کی طرف سے عطاکر دہ ٹھنڈے اور صاف ستھرے پانی کے ندی نالے ماحولیاتی آلودگی کے نذر ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی میںقدرتی آبی ذخائر اورآبگاہوںکے نزدیک آبادی کے پھیلائو،غیر قانونی طور پراراضی پر قبضہ،ماحولیاتی آلودگی اور فطری تبدیلی کے نتیجے میںانکا سکڑنا شدید خطرے کی علامت تصور کیا جارہا ہے۔ سرینگر کی خوبصورتی دوبالا کرنے والا جھیل ڈل حالیہ برسوں کے دوران تیزی کے ساتھ سکڑ تا گیا۔ ماحولیاتی کثافت،ناجائز قبضہ،شہری آبادی میں پھیلائو،ماحولیاتی تبدیلی اور زمین کے کٹائو کے نتیجے میں آبی ذخائر کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ آبی ذخائر کے گردونواح میں واقعہ علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹن غلیظ اور گندھا پانی ان آبی پناگاہوں میں چلا جاتا ہے جس کے نتیجے میں آب گاہوں کی کثافت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کا پانی زہر آلودہ بن جاتا ہے۔ وادی موجود آبی ذخائر تیزی کے ساتھ ختم ہوتے جا رہے ہیں جس کا اعتراف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے بھی کیا ہے اس کے باوجود ریاستی حکومت وادی میں موجود آبی ذخائر کو بچانے کے لئے کوئی موثر قدم نہیں اٹھا رہی ہے دوسری طرف قدرت کی طرف سے عطاکردہ ٹھنڈے اور صاف ستھرے پانی کے ندی نالے ماحولیاتی ندی نالے ماحولیاتی آلودگی کی نذر ہو جانے کا خطرہ لا حق ہو گیا ہے ۔ وادی کے دور دراز پہاڑی علاقوں کے علاوہ کئی قصبوں میں لوگ آج بھی گھریلو استعمال کے لئے ندی نالو ں کے پانی کو بروئے کار لاتے ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران ندی نالوں کے کنارے رہایشی مکانات کے علاوہ پا خانے تعمیر کئے گئے ہیں جس کی ساری گندگی ندی نالوں میں بہارئی جاتی ہے اس کے علاوہ دیہاتی لوگ بھی کپڑے اور برتن دھونے کے لئے ندی نالوں کے پانی کو استعمال میں لاتے ہیں جس سے ندی نالوں کا پانی نا قابل استعمال بن گیا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال اس آلودہ پانی کے استعمال سے یر قان کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ لوگوں کے حرص اور لالچ نے وادی میں موجود ندی نالوں کوسکیٹرکر گندے پانی کے نالیوں میں تبدیل کر دیا ہے ماہر ارضیات کا کہنا ہے اگر یہی صورت حال بر قرار رہی تو اگلے دس برسوں میں وادی سے پانی کا نام و نشان مٹ جائیگا ۔










