dooran news kashmir

فٹ پاتھوں پر غیر قانونی قبضہ

کرونا وائرس کی وبائی بیماری کے تیور کم ہونے سرکار کی جانب سے ان لاک ڈاون اور تمام تر سرگرمیاں بحال کرنے کے اعلان کے بعد بڑے شہروں اور قصبوں میںغیر قانونی پارکنگ فٹ پاتھوں نے سنگین رُخ اختیار کیاہے جسکے نتیجے میں بڑے شہروں قصبوں کے بازاروں میں پیدل چلنے والوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا مشکل ہی نہیں نا ممکن بن گیاہے تمام ادارے مسلسل اس سلسلے میں غیر سنجیدگی کا مظاہراہ کررہے ہیں جس پرعوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف سرکار سہولیت کو بہم پہنچانے کابار بار دعویٰ کرتی ہے دوسری جانب زمینی سطح پر اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے اور قانون کی عمل درآمدی کویقینی بنایاجائے ۔کروناوائرس وبائی بیماری کی دوسری لہر کے تیور کم ہونے کے ساتھ ہی جہاں سرکار نے اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں درس وتدریس کومعطل رکھاہے وہی کاربار اور دوسری سرگرمیوں کو شروع کرنے کی اجازت دی ہے جس کے نتیجے میں قانون کی بڑے پیمانے پرخلاف ورزی شروع ہوئی ہے جہاں کروناوائرس سے نمٹنے کے لئے واضح کی گئی قوائدو ضوابط کی دھجیاں اُڑ رہی ہے وہی غیرقانونی پارکنگ اورو فٹ پاتھوں پرقبضے سے اس قدر سنگین رُخ اختیار کیاہے کہ سرکار بھی بے بس نظر آ رہی ہے شہرسرینگر میں قائم بڑے اسپتالوں کے باہر چھاپڑی فروشوں ،ریڈیاں لگانے والوں نے جہاں بیماروں کا اسپتالوں تک پہنچنا ناممکن بنادیاہے وہی ڈاکٹروں نیم طبعی عملے کو بھی علاج ومعالجہ کرانے میں مشکلوں کا سامناکرناپڑرہاہے سرکاری اسپتالوں کے باہرجس بڑے پیمانے پر قانون کی خلاف ورزیاں ہورہی ہے اس کی کہی مثال نہیں مل پارہی ہے اور ان غیرقانونی حرکات کوروکنے کے لئے انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کردیئے اطلاعات یہ بھی مل رہے کہ سرکاری اسپتالوں کے باہر منشیات اور نشیلی ادویات بھی فروخت کی جارہی ہے اور یہ دھندہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہاہے ۔اسپتالوں کے باہر جہاں مقامی اور غیرریاستی غدا گروں کی ایک فوج جمع رہتی ہے وہی ان شفا خانوںمیں بیماروں کوشور شرابے کی وجہ سے علاج ومعالجہ کرانے میں مشکلوں کا سامناکرنا پڑرہاہے ۔ عوام کوہرطرح کی سہولیت اور غیرقانونی کارروائیاں کسی کوعمل میں لانے کی اجازت نہیں دی جائیگی کیاسڑکوں پرگاڑیاں پارک کرنا قانونی طور پرجائز ہے اور فٹ پاتھوں پرقبضہ جمانا آ ئین کی پاسداری ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق کئی ادارے جان بوجھ کر اس طرح کی کارروائیوں کوجاری رکھنا چاہتے ہے اور ا سکے پیچھے کیامحرکات ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔