سانبہ میں بین الاقوامی سرحد کے نزدیک تین مختلف مقامات پر مبینہ ڈرونز دیکھے گئے

فوجی ایئربیس کے نزدیک مشتبہ ڈرون کی پرواز

جموں//گذشتہ دنوںجموں میں فوجی ایئرفورس اسٹیشن پر ہوئے ڈرون حملوں کے بعد جموں میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب فوجی ایئربیس کے نزدیک ایک اور مشتبہ ڈرون کو دیکھا گیا۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق جموں میںدفاعی ذرائع نے بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جموں کے ایئر فورس اسٹیشن کے نزدیک ایک ڈرون کو دیکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرون کی اونچائی500 سے 800 میٹر تک تھی جب کہ فوج کی جانب سے نصب کردہ جدید مشینری کی مدد سے ڈرون کو دیکھا گیا ہے۔پھرایک مرتبہ مشتبہ ڈرون کی نقل و حرکت کے پیش نظر علاقے میں الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ متعلقین نے پولیس کو اطلاع دی کہ ستواری اور میران صاحب کے درمیان والے علاقے، جہاں سے ایئر فورس سٹیشن کچھ ہی دوری پر واقع ہے، میں ایک بار پھر ڈرون کو فضا میں گردش کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر ڈرون کو مار گرانے کیلئے گولیاں چلائیں لیکن ڈرون کو گولی نہیں لگی اور وہ واپس چلا گیا۔قبل ازیں بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف) اہلکاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو ضلع جموں کے ارنیہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر فضا میں گردش کر رہے ایک مشتبہ ڈرون پر گولیاں برسائیں۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جموں و کشمیر میں کئی مقامات پر ڈرون کو دیکھا گیا ۔ جس کے بعد سرینگر اور راجوری سمیت کئی اضلاع میں نجی طور پر ڈرون اور اس جیسی اشیاء کے استعمال اور خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔مشتبہ جنگجوئوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال کے بعد جموں صوبے کے سرحدی علاقوں میں فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے جب کہ جدید مشینری کی تنصیب بھی عمل میں لائی جارہی ہے تاکہ علاقے میں ڈرون کی سرگرمیوں کا پتہ لگایا جاسکے۔