جموںوکشمیر فلم پالیسی ۔ فلم شوٹنگ کی ترجیحی منزل کے طور پر کشمیرکی کھوئی ہوئی شان کو بحال کرنے کی طرف ایک یاد گار قدم
جموں//جموںوکشمیر اَپنی دِلکش خوبصورتی ، سبزہ زاروں ،وادیوں ، اونچائی کے راستوں ، گھنے جنگلات ، جھیلوں ، سیب باغات ، برف سے ڈھکی چوٹیوں سے بنے ہوئے ناقابل یقین منظر کے لئے جانا جاتا ہے اور فلم شوٹنگ کے لئے بالکل صحیح تصویر فراہم کرتا ہے۔اِس خوبصورت خطہ میں کئی فلموں کی شوٹنگ کی گئی ہے اور جموںوکشمیر میں فلمی سیاحت ہمیشہ کی طرح مقبول ہے۔ہندوستان فلم سازوں کو بہتر خوبصورتی اور مناظر ملنے کی بنا پر بالی ووڈ نے جموںوکشمیر کے ساتھ رشتے بحال کئے ہیں ۔یہ ایک ایسی منزل ہے جو کبھی فلمسازوں اور ناظرین کی پسند تھی ۔ جلد ہی وادی نے اَپنے کھلتے ہوئے ٹیولپس ، پُر سکون جھیلوں ، مخروطی درختوں اورجھیل ڈل پر لگے کیمرے دیکھے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ممبئی میں بالی ووڈ کے فلمسازوں بشمول ایکتا کپور ، دنیش وجن ، امتیاز علی ، اشونی ایر تیواری اور نتیش تیواری سے ملاقات کی ۔ اُنہوں نے اُنہیں وادی میں شوٹنگ کے لئے مدعو کیا اور یہ بات بھی کی کہ کس طرح جموںوکشمیر یوٹی میں فلموں کی شوٹنگ کو کاروبار کے لئے موزوں بنایا جاسکتا ہے ۔اِس تصور کا مقصد مقامی فن کاروں بشمول رقاص ، فیشن ڈیزائنروں ، اداروں ، کوریوگرافروں ، سنیما ٹوگرافروں ، سائونڈ ریکارڈ سٹس ، سیٹ ڈیزائنروں اور دیگر کو فوائد سے وادی کی کھوئی ہوئی شان کو واپس لانا ہے۔دِلکش کشمیر کے ساتھ بالی ووڈ کا پیار 1960ء اور 70کی دہائی کا ہے ۔ اس وقت وادی کے خوبصورت مقامات کے پس منظر میں کئی فلمیں ترتیب دی گئی تھی۔جموںوکشمیر کے برف پوش پہاڑیوں اور سرسبز و شاداب مقامات میں کچھ اِنتہائی رومانوی اور سد ا بہار گیتوں کی تصویر کشی کی گئی ۔
1961ء میں شمی کپور نے سائرہ بانو کے ساتھ سری نگر کے برف پوش پہاڑوں میں رومانس کیا جب اُنہوں نے ’’ چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے‘‘ گیت گایا۔انہوںنے فلم کشمیرکی کلی (1964ء) میں شرمیلا ٹیگور کے ساتھ جھیل ڈل میں ’’ شکارہ ‘‘ پر’’ تعریف کرو کیا اُسکی‘‘ گیت فلما یا جو گیت بعد میں بہت ہی مشہور ہوا ہے۔ 1970 ء کی دہائی کے آخیر اور 80 کی دہائی کے اوائل میں کبھی کبھی (1976ء) ، نوری (1979ء) اور سلسلہ (1881ء)جیسی سپر ہٹ فلموں میں سینی فیلس نے کشمیر کی دِلکش خوبصورتی کے ساتھ یش چوپڑا کے پیار کا مشاہدہ کیا۔سنی دیول اور امریتا سنگھ کی اَداکاری والی فلم بیتاب سب کو یاد ہے ۔ یہ فلم اور اس کی لوکیشن شائقین میں اتنی ہٹ ہوئی کہ وادی جو پہلے ہیگن ویلی کے نام سے جانی جاتی تھی کا نام بدل کر بیتاب ویلی رکھا گیا۔ 1973ء میں ایک اور مشہور فلم بوبی کے کئی مناظر ایک جھونپڑی میں شوٹ کئے گئے جس کے نتیجے میں اس کا نام بوبی ہٹ رکھا گیا۔تاہم 1990ء کی دہائی تک اِس خطے نے کچھ اِنتہائی پر تشدد وقتوں کا مشاہدہ کیا اور کشمیر کو سینما میں ایک نئی داستان مل گئی۔کہانیاں وادی میں کشیدگی کی وجہ سے بھسم ہوگئیں ۔ کنال کوہلی جن کی فلم ’’ فنا‘‘ کشمیر میں تھی وہاں شوٹنگ نہیں کرسکے ۔ منی رتنم کی روزہ (1992ء)اور دل سے (1998ء) کشمیر میں سیاسی اِنتشار کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ مشن کشمیر (2000ء) اور یہان (2005ء) نے بھی خطے میں بد اَمنی کو ظاہر کیا ۔ تاہم وہاں بڑھتے ہوئے تنائو نے فلم سازوں کو کسی اور جگہ شوٹنگ کرنے پر مجبور کیا ۔ منی رتنم نے فلم کی شوٹنگ کشمیر میں کرنے کا اِرادہ کیا تھا لیکن آخر کار اسے کنور ، اوٹی اور منالی منتقل کیا۔بالآخر ، فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار وادی بیس منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکا ر ہوگئے۔اُنہوں نے ملک کے مختلف علاقوں اور غیر ملکی ساحلوں پر شوٹنگ کرنے کو ترجیح دی۔ اوٹی کے شاندار مقامات نے بالی ووڈ کی بہت سی دوسری فلموں جیسے ہم آپ کے ہیں کون!، میں نے پیار کیا، دیوانہ اور دل سے کا پس منظر بنایا۔اِس کے علاوہ لندن ، پیرس ، نیویارک اور سوئزرلینڈ کے سیاحتی مقامات نے سونہ مرگ ، سری نگر ، گلمرگ اور پہلگام کی جگہ لے لی۔لیکن اب جب کہ فلم ڈائریکٹران اور پروڈیو سر خلیج میں واپس آنے کا اِرادہ رکھتے ہیں ۔ ہم کچھ حالیہ فلموں پر نظر ثانی کرتے ہیں جن کی شوٹنگ کشمیر میں کی گئی تھی۔
کبیر خان کی ہدایت کاری میں بننے والی بجرنگی بھائی جان جس میں سلمان خان مرکزی کردار میں ہیں ، کی شوٹنگ وادی بھر کے دِلکش مقامات بشمول پہلگام اور گلمرگ کے مشہور ریزوٹوں پر کی گئی۔’’ بھر دے جھولی میری ‘‘ گانا جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے عشمقام علاقے میں ایک مشہور زیارت گاہ پر فلمایا گیا تھا ۔ فلم شوٹنگ کے دوران سلمان نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ ’’ کشمیر بہت امیرہے قدرتی حسن میں … ماشاء اللہ ماشاء اللہ ‘‘ بجرنگی بھائی جان کی کلائمکس کی شوٹنگ سونہ مرگ میں تھجواس گلیشئر کے قریب ہوئی تھی۔ ’’ شیر شاہ ‘‘ جیسی ایکشن سے چلنے والی فلموں نے سرحدی تنازعات میں دِلچسپی کی تجدید کی ہے۔’’ شیر شاہ ‘‘ کی کہانی کرگل پر مبنی ہے اور اس کی شوٹنگ کشمیر کے پہاڑوں میں کی گئی ہے۔
عامر خان ( جس نے ابھی لداخ میں ’’ لال سنگھ چڈھا‘‘ کا ایک حصہ شوٹ کیا ہے) اور راجکمار ہیرانی ( جنہوں نے 3’ایڈیتس ‘ کا ایک حصہ اسی مقام پر شوٹ کیا تھا) ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر کی فلم پالیسی کا آغاز کیا ہے۔جموں وکشمیر یوٹی میں فلم اِنڈسٹری کی مجموعی ترقی کو فروغ دینے کے لئے تیار کی گئی اِس نئی پالیسی کے تحت جموں وکشمیر فلم ڈیولپمنٹ کونسل قائم کی جائے گی۔متعلقین کا مقصد شوٹنگ مقامات کی ترقی کو آسان بنانا، منزل کی مارکیٹنگ پر توجہ مرکوز کرنا، جموںوکشمیر فلم فیسٹول کا اہتمام کرنا اور علاقے سے فلموں کی بحالی اور تحفظ کی طرف بھی توجہ مرکوز کرنا ہے۔اُنہوں نے بند سنیما ہالوں کو بھال کر کے موجودہ سنیما ہالوں کو اَپ گریڈ کر کے اور ملٹی پلیکس اور سنیما ہالوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنے سے فلم سازوں کے لئے پہلی پسند کے طور پر یوٹی کو شوٹنگ کی منزل قائم کرنے کے لئے بہت سی سبسڈی کی پیشکش کرتے ہوئے فلم کی نمائش کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ کشمیر میں فلم کی شوٹنگوںکو واپس لانے کے لئے یہ ایک یاد گار کوشش ہے۔کشمیر اَب ایک بار پھر بین الاقوامی سیاحتی نقشے پر ہوگا اور فلم شوٹنگ سے نہ صرف وادی کے لوگوں کے لئے روزگار پیدا ہوگا بلکہ دُنیا بھر کے ہزاروں سیاحوں کو اِس سرزمین کی شان سے لطف اندوز ہونے کے لئے مدعو کیا جائے گا۔










