حسن ساہوؔ
اس اصلیت سے ہر صاحب فکر ونظر اتفاق کرتا نظرآئے گا کہ ہر طرح کے ادارے یا تنظیم کا خوش اسلوبی کے ساتھ فرائض ادا کرنے کیلئے ایک فعال اور مستحکم نظام کا موجود ہونا ضروری ہے۔ الغرض نظام اس وقت تک محترک اور قابل بھروسہ رہتا ہے جب تک اس ادارہ سے وابستہ اراکین وممبران دستور العمل یا آئین کی پابندی کرتے رہیں گے۔دراصل آئین کی بنیاد پر قائم ہونے والا نظام شخصیتوں کی بنیاد پر ہی معرض وجود میں آتا ہے البتہ اصل اقتدار اصولاً دستور العمل کو ہی حاصل رہتا ہے۔آئین مُرتب دینے والے اراکین بھی آئینی لوازمات کے سامنے جواب دہ بن جاتے ہیں۔ لے دے کے یہ ماننا پڑے گا کہ آئین کی حیثیت مسلم اور بڑی سے بڑی شخصیت کسی بھی صورت میں آئین سے بالا تر نہیں ہوسکتی۔
ادارے چھوڑے ہوں یا بڑے شخصیت پرستی ان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرکے فنا کردیتی ہے۔ من مانی یا خود غرضی کی ڈگر اختیار کرنے والے کسی بھی ادارے کے اراکین زیادہ دنوں تک لوگوں کو مغالطے میں نہیں رکھ سکتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ آئین کے مقابل نہ کوئی شخصیت بڑی ہے نہ کوئی جماعت بلکہ شخصیتوں کااحترام وہیں تک ضروری ہے جہاں تک مروجہ آئین اجازت دیتا ہے۔ دستورالعمل کی سرحد کو پھلانگ کر آگے بڑھنے کی کسی بھی طرح کی کوشش آہستہ آہستہ ادارہ کی موت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح تنظیم، انجمن یا پارٹی کے لئے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ اس کے مقاصد سود مند ہوں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس ادارہ کے اراکین وممبران کے دلوں میں اخلاص، عزم،حوصلہ اور ایثار کا جذبہ برابر موجزن ہو۔ غرض کسی بھی ادارہ کے اراکین اسی صورت میں اپنی صلاحیتوں کا بجا طور مظاہرہ کرسکتے ہیں اگر وہ پر خلوص دیانت دار اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں سنجیدہ ہوں۔ اگر ہم اپنے ارد گرد میں موجود اداروں کی کارکردگی کا خلوصِ نیت کے ساتھ جائزہ لیں تو ہمیں اس صداقت کا اندازہ ہوگا کہ ان اداروں کے اکثر عہدہ داروں میں اجتماعی انداز کردار اپنانے کی صلاحیت نہیں۔ وہ ذاتی مفادات کے معیار میں مقید کسی طرح کا ٹھوس وکارگر اقدام نہیں اُٹھاسکتے۔ عہدہ داروں میں اپنے نفس کی برتری اور دوسروں کی کمتری کا احساس ہونا بھی وابستہ ادارہ کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اس وقت ریاست کے طول وعرض میں بظاہر فلاح وبہتری کے لئے کام کرنے والی جماعتوں کی کوئی کمی نہیں۔ البتہ اکثر اراکین میں اخلاص، رواداری، باہمی رب وتفاوت کے فقدان نے اُن کی ساکھ کو دم سکت بناکے رکھ دیا ہے یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ادارہ کے کچھ خود غرض اراکین ایک دوسرے کونیچا دکھانے کی کوشش میں رواداری واپنائیت کے اصولوں کا خون کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ الغرض عداوت ورنجش کی راہ پر گامزن ایک دوسرے کی شخصیت کو داغدار کرکے آئینی لوازمات کا مذاق اُڑانے کی حماقت کرتے ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہر آدمی کی زندگی کا مثبت پہلو ہوا کرتا ہے یا منفی پہلو۔اگر منفی پہلو نظرانداز کرکے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے تویقینا کسی طرح کی ناجاقی بال وپر پھیلانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔
مسائل ومعاملات کو آئینی حدود کے اندر حل کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ البتہ اخلاقی صورت حال سے نپٹنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ مخالف فرد کے ایگو(Ego)یا اناکو جگانے کی سعی کی گئی ہے یا اس کے ضمیر کو۔اگر ہم انا یا ایگوکو جگانے کی حماقت کریں تونتیجہ افراتفری کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس کے برعکس اگر مخالف فرد کے ضمیرکو چھیڑاجائے تو شرمندگی کا جذبہ جاگ جانا یقینی ٹھہرا۔ معاملات پر غوروخوض کرنے کے دوران کسی رُکن کی ترش روی پر غصہ آجائے تو بہتر رہتا ہے کہ نرم روی کو اپنایاجائے۔ غصہ ورانسان جائز اندازمیں کسی معاملے پر سوچ ہی نہیں سکتا۔
الغرض ادارہ کے وقار کو بنائے رکھنے کی خاطر غصہ پر قابو پانا بہتر وافضل رہے گا۔
تنقید یا تعریف کے جذبے سے بلندہوکر معاملے پر کھلے ذہن کے ساتھ غورکیا جائے تو ادارہ کے اراکین میں آپسی اعتماد بڑھ جاتا ہے۔
ویسے کسی بھی طرح کی پارٹی یا انجمن کی فارغ البالی اور کامیابی کادارومدار مندرجہ ذیل عناصر پر منحصر ہواکرتا ہے۔
۱۔ بے لوث قیادت
۲۔ آئین پر عمل داری اور
۳۔ اراکین کا اعتماد
کسی بھی سیاسی یاس سماجی ومذہبی انجمن یا پارٹی کے قائد کا نیک خصلت ، دیانت دار، پرخلوص اور بھر پور صلاحیتوں کا مالک ہونا لازمی شرط ہے۔ ذاتی مفادات سے قطع نظر سدادستور العمل کی شرائط پر کاربند رہنے کا پابند ہو۔
ہر طرح کی کارروائی آئین کے تحت ہوتا کہ ادارہ کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچے ۔قائد کے لئے ضروری ٹھہرا کہ اسے اراکین وممبران کا اعتماد ہر حال میں حاصل ہو۔










